
رشید احمد صدیقی ۱۸۹۲ء میں قصبہ مڑیاہوں، ضلع جون پور (یو پی، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور میٹرک تک کی تعلیم انہوں نے جون پور کے اسکول سے حاصل کی۔ گھر کے مالی حالات ایسے تھے کہ انہیں جون پور میں کلرک بھرتی ہونا پڑا، مگر نوکری نے ان کی پڑھائی کا راستہ نہیں روکا — ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھی اور ایم اے فارسی کا امتحان پاس کیا۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی انہوں نے انشائیہ طرز کے مضامین لکھنے شروع کیے، جن میں مزاح اور شگفتگی کے ساتھ ایک سنجیدہ بات بھی چھپی ہوتی تھی۔
۱۹۲۰ء میں وہ علی گڑھ میں شعبۂ درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے، اور جب علی گڑھ کالج یونیورسٹی بن گیا تو ترقی کرتے کرتے علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے منصب تک جا پہنچے۔ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے ایک بھرپور علمی و ادبی زندگی گزاری۔ ۱۵ جنوری ۱۹۷۷ء کو ان کا انتقال ہوا اور وہ علی گڑھ یونیورسٹی کے قبرستان میں دفن ہیں۔
📌 ان کا اسلوب کیوں خاص ہے؟ رشید احمد صدیقی کو علی گڑھ کا خاص اسلوب ورثے میں ملا تھا — ان کی تحریروں میں جگہ جگہ گہری باتیں پڑی ہوتی ہیں اور ان کے مزاج میں شگفتگی اور خوش طبعی کے عناصر ملتے ہیں۔ ان کا اسلوبِ بیان نہایت خوب صورت ہے، اور ان کے طنز و مزاح میں بھی ایک گہرا شعور پایا جاتا ہے، یعنی ہنسی کے پیچھے سوچ بھی موجود ہوتی ہے۔ ان کی اہم تصانیف میں ”طنزیات و مضحکات“، ”مضامینِ رشید“، ”گنج ہائے گراں مایہ“، ”ہم نفسانِ رفتہ“، ”ہمارے ذکر صاحب“، ”آشفتہ بیانی میری“، ”اردو غزل“ اور ”مکاتیبِ رشید احمد صدیقی“ شامل ہیں۔
عمر کے کسی حصے میں بھی ان کی صحت قابلِ رشک نہیں رہی تھی؛ مدتوں انہیں گردے کی شدید تکلیف رہی، اور طویل علالت کے بعد علی گڑھ میں ان کی وفات ہوئی۔ یہ تفصیل اس لیے ضروری ہے کہ ”چارپائی“ جیسا مضمون اسی زندگی کے تجربے سے نکلا ہے — ایک ایسے شخص کی تحریر جو کلرکی، تدریس اور بیماری سب دیکھ چکا تھا، اور عام سی چیزوں میں بھی زندگی کا پورا فلسفہ ڈھونڈ لیتا تھا۔
Who he was: Rashid Ahmed Siddiqui (1892–1977) was born in Mariyahun, district Jaunpur (UP, India). He studied up to matric in Jaunpur, then had to take a clerk's job for financial reasons — but he kept studying alongside work and passed his MA in Persian. From his student days he was writing essays in the inshaiya style: light, personal, humorous pieces that still carry a serious point.
Career: In 1920 he joined teaching at Aligarh, and as Aligarh College grew into a university he rose to the Urdu department there. He lived a full scholarly and literary life, and after a long illness — he suffered badly from kidney trouble for years — he died on 15 January 1977 and is buried in the Aligarh University graveyard.
Why his style matters for this lesson: Siddiqui inherited the Aligarh manner — elegant expression, wit, and humour that never loses its thoughtful core. That is exactly how "Charpai" works: a joke about a bed that slowly turns into a comment on all of Indian life. His well-known books include Tanziyat-o-Muzhikat, Mazameen-e-Rashid, Ganj-ha-e-Giran Maya, Hum Nafsan-e-Rafta, Hamare Zikr Sahib, Ashufta Bayani Meri, Urdu Ghazal and Makatib-e-Rashid Ahmed Siddiqui.
📌 Note for the exam: If a question asks for the author's dates or his department, write: born 1892, Jaunpur; MA Persian; Urdu department, Aligarh University; died 15 January 1977. These are the facts given in the book's own introduction (printed page 44).
سبق کا پہلا جملہ ہی پورے مضمون کی کنجی ہے: چارپائی اور مذہب ہم ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ یعنی چارپائی کوئی فرنیچر کی چیز نہیں، ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ ہم اسی پر پیدا ہوتے ہیں، اور یہیں سے مدرسے، آفس، جیل خانے، کونسل، یا آخرت کا راستہ لیتے ہیں۔ ہم اس پر دعا کھاتے ہیں، دعا اور جھیک بھی مانگتے ہیں، کبھی فکر مند ہوتے ہیں اور کبھی فکر سے آزاد۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ہم چارپائی پر اتنا اعتماد کرتے ہیں کہ اس سے کبھی باز نہیں آتے — اس پر ہماری پوری زندگی گزر جاتی ہے۔
📖 تدریسی مقاصد (کتاب کے مطابق): اس سبق کو پڑھنے کے بعد طلبہ (۱) انشائیے کے بارے میں بنیادی باتیں جان سکیں گے، (۲) انشائیہ نگاری کی روایت اور ارتقا کا جائزہ لے سکیں گے، (۳) رشید احمد صدیقی کی ادبی خدمات سے روشناس ہو سکیں گے، اور (۴) ”چارپائی“ میں حقیقت نگاری، ادبی لطافت، رنگِ مزاح اور متنوع کیفیات ایک ساتھ جلوہ گر دیکھ سکیں گے۔ امتحان میں اگر ”تدریسی مقاصد“ پوچھے جائیں تو یہی چار نکات لکھیں۔
اس آغاز کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے گھر کی چارپائی کو دیکھیں: بچہ اسی پر سوتا ہے، بیمار اسی پر لیٹتا ہے، مہمان اسی پر بٹھایا جاتا ہے، اور آخر میں جنازہ بھی اسی سے ملتی جلتی چیز پر اٹھتا ہے۔ مصنف نے اسی عام سی حقیقت کو لے کر ایک پورا مضمون کھڑا کر دیا ہے — اور یہی انشائیے کا کمال ہے کہ معمولی چیز میں غیر معمولی معنی نکال لیے جائیں۔
The opening idea: The lesson opens with a striking claim — the charpai is the very bedding of our lives as Hindustanis. We are born on it, and from it we set out to school, office, prison, council, or the next world. We eat on it, pray on it, worry on it and rest free of worry on it. The point is not furniture; it is that one object travels with a person through every stage of life.
Learning objectives (as given in the book): (1) basic facts about the inshaiya; (2) a survey of the tradition and development of essay-writing; (3) acquaintance with Rashid Ahmed Siddiqui's literary services; (4) seeing realism, literary delicacy, humour and varied moods together in "Charpai".
Theme in one line: An ordinary, lowly object — a rope bed — becomes a mirror of Hindustani civilisation: poor in appearance, rich in service, and present at birth, work, rest and death alike.
Glossary: orhhna bichhona — one's constant covering and bedding, i.e. an inseparable companion; aakhirat — the hereafter; jheek — a sigh of impatience or complaint (here, the grumbles of life).
مصنف کہتا ہے کہ چارپائی کی ملازمت ریاست کے ملازم جیسی ہے — یہ ہر کام پر مامور ہوتی ہے، اس لیے ہر کام پر مامور سمجھی جاتی ہے۔ اس بات کو سمجھانے کے لیے وہ ایک ریاست کا قصہ سناتا ہے: ایک ریاست میں کوئی صاحب ”ولایت“ پاس ہو کر آئے۔ ریاست میں کوئی اسامی نہ تھی جو ان کو دی جا سکتی، اور آدمی سو چرچے ہو گئے تھے۔ راجا صاحب کے کانوں تک یہ بات پہنچائی گئی کہ کوئی جگہ نہیں تو وہ صاحب سے ملنے آئے ہیں۔ راجا صاحب ہی کی جگہ پر استقبال کریں گے۔
پھر ہوا یوں کہ ریاست میں پھل پھچ گئی۔ اتفاق سے ریاست کے سول سرجن رخصت پر گئے ہوئے تھے، یہ ان کی جگہ پر تعینات کر دیے گئے۔ کچھ دنوں بعد سول سرجن صاحب واپس آئے تو انجینئر صاحب پر فائض کرا کر ان کی جگہ ان کو دے دی گئی۔ آخری بار یہ خبر ملی کہ وہ ریاست کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہو گئے تھے، اور اپنے ولی عہد کو ریاست کے والی عہد کا مصاحب بنوا دینے کی فکر میں تھے۔
اب ذرا ہنسی کے پیچھے کی بات دیکھیں: جس طرح اس ملازم کو کبھی ڈاکٹر، کبھی انجینئر اور کبھی چیف جسٹس بنا دیا گیا — حالانکہ وہ ان میں سے کچھ بھی نہ تھا — اسی طرح چارپائی کو بھی ہر کام پر لگا دیا جاتا ہے: بستر بھی وہی، دسترخوان بھی وہی، دواخانہ بھی وہی، دربار بھی وہی۔ مصنف کا طنز یہ ہے کہ ہمارے ہاں چیزوں اور آدمیوں کی ”تعیناتی“ قابلیت سے نہیں، ضرورت اور خالی جگہ سے ہوتی ہے۔ یہی مشابہت مشق کے پہلے سوال (۱ الف) میں پوچھی گئی ہے۔
📖 مشکل لفظ: ”ولایت“ پاس ہونا یہاں انگلستان سے تعلیم حاصل کر کے آنا ہے؛ ”تعینات“ کا مطلب کسی عہدے پر مقرر کرنا ہے؛ ”مصاحب“ کا مطلب ہے ساتھی، درباری، ہم نشین۔
The comparison: Siddiqui says the charpai's "service" is like that of a state servant — it is appointed to every job, so it is taken to be fit for every job. To prove it he tells a story: a gentleman returned from England ("wilayat") to a princely state, but there was no vacancy for him. Word reached the Raja Sahib, who received him himself — and then, as posts fell vacant one by one, the man was put in them all: first in place of the civil surgeon who had gone on leave, then in the engineer's place, and finally, the last news was that he had become Chief Justice of the state's High Court, and was now busy getting his own heir appointed as companion to the state's heir apparent.
What the joke means: Just as that officer was doctor, engineer and judge in turn without being any of them, the charpai is bed, dining table, pharmacy and court in turn. The satire is gentle but sharp: appointments here follow vacancy and need, not fitness — and the charpai, like the officer, never refuses a posting.
Glossary: wilayat — England / foreign (here, having studied abroad); taayunat — appointment to a post; musahib — a court companion, an associate; asami — a post, a vacancy.
کبھی کبھی یہ ایک وقت، وقت پر حاصل رہتی ہے۔ کوئی مہمان آیا، چارپائی نکالی گئی۔ اس پر ایک نئی دری بچھا دی گئی، جس کے تانے بانے ایسے معلوم ہوں جیسے کسی چھوٹی سی اراضی کو مینڈوں اور نالیوں سے بہت سے مالکوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ اور مہمان صاحب مع بچکن، بیگ، بچی کے بیٹھے — چارپائی ہی پر اس کا ہاتھ دھلوایا اور کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔ سوجانے کے بعد ان پر سے مچھر مکھی اڑائی جاتی ہے، اور اسی طرح اٹھائی جائے گی جیسے کوئی پھیری والا اپنے خوانچے پر سے مکھیاں اڑاتا ہے۔
چارپائی پر سونے کے لیے اتنا پھیلایا جائے گا، جس پر تمام دن چیزیں حملے کرتی، دانے پچلتی اور گالیاں سنتی رہیں گی۔ کوئی قریب ہوئی تو بڑے پیار سے چارپائی پر الو جھیلی جائیں گے۔ ملازمت میں پشن کے قریب ہوتے ہیں تو جو کچھ رخصت ہوئی رہتی ہے، اس کو لے کر ملازمت سے سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح چارپائی کو کبھی کبھی کسی کوٹھری میں داخل کر دیتے ہیں اور اس پر سال بھر کا کچرا کاٹھ کباڑ جمع کر دیا جاتا ہے۔
یہاں مصنف کی نظر کی باریکی دیکھیں: نئی دری کے تانے بانے اسے کھیتوں کی مینڈیں لگتے ہیں، سوتے ہوئے مہمان پر سے مکھیاں اڑانا اسے پھیری والے کا خوانچہ لگتا ہے، اور پرانی چارپائی کی ”ریٹائرمنٹ“ اسے ملازم کی سبک دوشی لگتی ہے۔ ہر منظر میں چارپائی ایک نئی نوکری پر ہے — اور ہر نوکری میں وہی پرانی، خاموش خدمت۔
📌 امتحان کے لیے: مشق کا سوال (۲ الف) اسی حصے سے ہے — چارپائی پر سونے کے لیے کیا پھیلایا جاتا ہے؟ اور سوال (۲ ب) کوٹھری والے حصے سے ہے۔ ان کے جواب مشق میں سیاق کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
When a guest arrives: Sometimes the charpai is brought out only on occasion. A guest comes, the charpai is taken out, and a new dari (a woven sheet) is spread on it — its warp and weft look, says Siddiqui, like a small piece of land divided by ridges and channels among many owners. The guest sits down with his bundle, bag and child; his hands are washed on the charpai itself, and he is fed on it too. After he sleeps, flies and mosquitoes are fanned away from him, just as a hawker fans flies off his tray.
Sleep and retirement: For sleeping, so much is spread on the charpai that all day long things keep falling on it, grains keep getting crushed on it, and it keeps hearing abuse. When it grows old — near its "pension", as a servant nears retirement — it is put away in some storeroom (kothri), and a whole year's junk and lumber is piled on it. The servant retires with whatever leave is due to him; the charpai retires under a heap of odds and ends. The parallel is the whole joke, and also the whole pathos.
Glossary: dari — a flat woven cotton sheet/bedding; taanay baanay — warp and weft of a woven cloth; pension — here used jokingly for the charpai's old age; subuk-dosh — retired, relieved of duty; kothri — a small storeroom.
چارپائی ایک اچھے کس کا کام دیتی ہے، نیچے کے نیچے ہر قسم کی گولیاں، جن کے استعمال سے آپ کے سوا کوئی واقف نہیں ہوتا، ایک آدھ روپیہ، چند پیسے، کتابیں، رسالے، جاوید کے کپڑے، تھوڑا بہت نقشہ، سلیمانی، فیرست دواخانہ، حسن، جملہ — اور پھر آپ ایک ایسے صاحب سے واقف ہوں جو چارپائی پر لیٹے ان میں سے ہر ایک کو، اجالا ہو یا اندھیرا، اس صحت کے ساتھ آنکھ بند کر کے نکال لیتے اور پھر رکھ دیتے، جیسے حکیم صاحب مرحوم اپنے لیے چوزے کس میں سے ہر مرض کی دوا نکال لیتے اور پھر رکھ دیتے۔
حکومت بھی چارپائی پر ہی ہوتی ہے۔ خاندان کے کرتا دھرتا چارپائی پر ہی براجمان ہوتے ہیں۔ وہیں سے ہر طرح کے احکام جاری ہوتے رہتے ہیں اور گانا گا کر نزا بھی وہیں سے دی جاتی ہے۔ آلاتِ سزا میں ہاتھ، پاؤں، زبان کے علاوہ ڈنڈا، جوتا، تاملوٹ بھی ہیں، جنہیں اکثر چپینک کر مارتے ہیں۔ سیاست کو توقف کرنے کے لیے توقف نہ پڑے جائے اور ان آلات کو مجرم پر استعمال کرنے کے بجائے اپنے اوپر استعمال کرنے کی ضرورت نہ محسوس ہونے لگے — یہ جملہ مصنف کا وہ طنز ہے جو ہنسی میں لپٹا ہوا ہے۔
چارپائی ہی کھانے کا کمرہ بھی ہوتی ہے۔ باورچی خانے سے کھانا چلا اور اس کے ساتھ پانچ سات چھوٹے بڑے بچے، اتنی ہی مرغیاں، دو ایک کتے، بلی اور بے شمار مکھیاں آ پہنچیں۔ سب اپنے قرینے سے بیٹھ گئیں۔ صاحبِ خانہ صدرِ دسترخوان ہیں۔ ایک بچہ زیادہ کھاتا ہے، دوسرا ابتیزی سے کھاتا ہے، تیسرا کم کھاتا ہے، چوتھا زیادہ کھاتا ہے اور بقیہ اس پر کہ ان کو مکھیاں کھا جاتی ہیں۔ دوسری طرف ہیوی کبھی آزاتی جاتی ہے اور شوقی بدزبانی سنی اور بدتمیزی سنی جاتی ہے۔ کھانا ختم ہوا۔ شوہر شریف ہو، تو ہاتھ دھو کر کمرے میں چارپائی پر لیٹ گئے۔ کبھی دفتر میں ملازم ہو، تو اس طرح جان لے کر بھاگے جیسے گھر میں آگ لگی ہے۔ اور کوئی مذہبی آدمی ہو، تو اللہ کی یاد میں قیلولہ کرنے لگے، بیوی بچے بدن دبانے اور بددعا سنے لگے۔
📖 یہ حصہ کیوں یاد رکھیں؟ اسی حصے سے مشق کے سوال (۱ ب) — چارپائی کے نیچے کیا کچھ جمع ہوتا ہے؟ — سوال (۱ ہ) — چارپائی پر حکومت کیسے ہوتی ہے؟ — اور خالی جگہ (۲ ج، ۲ د، ۲ ہ) آتے ہیں۔ یعنی اس ایک حصے سے پانچ مشقی سوالات نکلتے ہیں۔
The pharmacy under the bed: The charpai also works as a fine medicine chest. Underneath it lie all sorts of pills — whose use nobody knows but you — an odd rupee, a few coins, books, magazines, clothes, a map or two, and a list of medicines. Siddiqui knew a man who, lying on the charpai, could pull any one of these out with his eyes shut, in light or in darkness, and put it back again — just as the late Hakim Sahib used to pull the medicine for every disease out of his box and put it back.
The court on the bed: Government, too, happens on the charpai. The head of the family sits enthroned on it; all orders are issued from there, and punishment is also handed out from there. Besides hands, feet and tongue, the instruments of punishment include a stick, a shoe and a slap — mostly applied with a smack. The humour here is that the family court runs entirely from a rope bed.
The dining room on the bed: The charpai is the dining room as well. Food comes from the kitchen, and with it five or seven children of all sizes, as many hens, a dog or two, a cat and countless flies. Everyone sits in their own way. The master of the house is the president of the dining cloth (sadr-e-dastarkhwan). One child eats too much, another too fast, a third too little; the rest is eaten by the flies. When the meal ends, a decent husband washes his hands and lies down on the charpai; an office employee rushes off as if the house were on fire; and a religious man takes a midday nap (qailula) in remembrance of God while wife and children press his body and listen to his grumbles.
Glossary: dawakhana — pharmacy, medicine store; karta dharta — the person who runs the household; sadr-e-dastarkhwan — head of the dining spread; qailula — the midday nap, especially the Sunnah siesta.
ہو تو اللہ کی یاد میں قیلولہ کرنے لگے، بیوی بچے بدن دبانے اور بددعا سنے لگے — اس کے بعد مضمون ایک بڑے دعوے کی طرف مڑتا ہے: چارپائی ہندوستان کی آب و ہوا، تمدن و معاشرت، ضرورت اور ایجاد کا سب سے بھرپور نمونہ ہے۔ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے مانند ڈھیلی ڈھالی، شکستہ حال، بے سرو سامان، لیکن ہر قسم کا سامانِ راحت فراہم کرنے کے لیے آمادہ۔ کوئی اور صوفے والے کمرے اور ڈرائنگ روم کے امیر اس راحت و عافیت کا کیا اندازہ لگا سکتے ہیں جو چارپائی پر میسر آتی ہے!
انسان کی خوشی اور خوش حالی کے لیے کچھ باتیں تجویز کر لی ہیں، مثلاً: بچے دوست، شرافت، فراغت، اور گوشت چمن۔ ہندوستان جیسے غریب ملک کے لیے عیش و فراغت کی فہرست سے مختصر ہونی چاہیے۔ میرے نزدیک تو صرف ایک چارپائی ان تمام لوازم کو پورا کر سکتی ہے۔ یعنی مصنف کے نزدیک چارپائی صرف سونے کی چیز نہیں، زندگی کی آسائشوں کی فہرست کا مختصر جواب ہے — ایک غریب ملک کی امیری کا راز اسی میں ہے کہ کم خرچ چیز سے زیادہ سے زیادہ آرام لیا جائے۔
پھر وہ بانوں کی ٹوٹی ہوئی چارپائی کا منظر دکھاتا ہے، جسے مگا کے کھیت میں بطور مچان باندھ دیا گیا ہے۔ ہر طرف جھونٹے لہلہاتے کھیت ہیں۔ بارش نے گروپوں کو شگفتہ و شاداب کر دیا ہے، دور دور جھیلیں جھلکتی نظر آتی ہیں جن میں طرح طرح کے آبی جانور اپنی اپنی بولیوں سے برسات کی گل و داری اور مزے داری کا اعلان کرتے ہیں۔ بچان پر بیٹھا ہوا کسان کھیت کی رکھوالی کر رہا ہے، اس کے یہاں نہ آسائش ہے، نہ آرائش، نہ علم و فضل، نہ دولت و اقتدار، لیکن یہ سب چارپائی پر بیٹھے ہوئے کسان کی محنت کا ثمرہ ہیں۔ پھر ایک دن آئے گا جب اس کی پیداوار کو چور، مہاجر، یا زمیندار لوٹ لیں گے، اور اسی چارپائی پر اس کو سانپ ڈس لے گا اور قصہ پاک ہو جائے گا۔
یہ آخری جملہ مضمون کے مزاح کو ایک دم سنجیدہ کر دیتا ہے: جس چارپائی پر کسان ساری محنت کا پھل اگاتا ہے، اسی پر اس کی موت بھی لکھی ہو سکتی ہے۔ ہنسی اور دکھ یہاں ایک ہی جملے میں آ ملتے ہیں — اور یہی رشید احمد صدیقی کا خاص رنگ ہے۔
The big claim: Siddiqui now widens the lens: the charpai is the fullest specimen of Hindustan's climate, civilisation, society, need and invention. Like Hindustan and Hindustanis themselves, it is loose-limbed, broken-down and without finery — yet ready to supply every kind of comfort. What could the rich, with their sofas and drawing rooms, know of the rest that a charpai gives?
The short list of happiness: People have drawn up lists for human happiness — good children, honour, leisure, and meat and gardens, for example. For a poor country like Hindustan, Siddiqui says, the list of luxury ought to be shorter. In his view, a single charpai alone can fulfil all those requirements. It is a witty, economical philosophy: maximum rest from minimum means.
The farmer on the machan: Then comes the picture of Banu's broken charpai, tied up in the field as a machan (a raised watch-platform). Around it the crops wave; the rain has freshened the fields; far off, ponds glitter, and water creatures announce the monsoon in their own voices. The farmer sits on the platform guarding his field. He has no luxury, no decoration, no learning, no wealth or power — yet all of these are the fruit of the labour of the farmer sitting on the charpai. Then one day will come when thief, migrant or landlord will loot his produce, and on that same charpai a snake will bite him, and the story will be over.
Why this passage matters: It is the passage quoted in exercise question 9, and it is also the moral centre of the lesson: humour that does not hide the hardship underneath. Machan — a raised platform, here a charpai tied high in a field for watching crops.
برسات ہی کا موسم ہے۔ گاؤں میں آم کا باغ بھی دھوپ میں جھوم رہا ہے، ہوا آتی ہے، ہوا آتی ہے۔ گاؤں میں آم کا باغ بھی دھوپ میں جھوم رہا ہے، سب کے سب چھپتے ہیں۔ کہیں کوئی پکا ہوا آم ڈال سے ٹوٹ کر گرتا ہے۔ سب کے سب چھپتے ہیں۔ جس کو مل گیا، وہ ہیر و بن گیا، جس کو نہ ملا اس پر سب نے چھٹے لگائے۔ یہی لڑکیاں کے لڑکیوں کا — اور یہیں مصنف کا لہجہ بدل جاتا ہے: کھڑی چارپائی پر اس باغ میں آرام فرما رہا ہے۔ چارپائی باغبان کی ہے، باغ کسی اور کا ہے، ہزار لڑکیاں گاؤں کی ہیں۔ میرے حصے کا صرف آم ہے۔ ایسے میں جو کچھ باغ میں آئے، وہ بھی نگل جائے تو کیا عجب!
پھر عالمِ تصویر میں ایسی کائنات تقریر کرنے لگتا ہوں جو صرف میرے لیے ہے، جو میرے ہی اشارے سے بنتی بگڑتی ہے، مجھے خلاق کا درجہ حاصل ہے، اپنے حقوق کو بھی نہیں گزرتا۔ نہ اس خیال کا زمانہ ہے کہتے ہیں۔ نہ اس کی پروا کہ زندگی کیا ہے۔ دوسروں کا امیر ہونا — دیکھ کر چونک پڑتا ہوں۔ پھر یہ محسوس کہ ان لوگوں سے اور خود زمانہ اور زندگی سے علیحدہ بھی ہوں۔ کچھ دیر کے لیے اونگھنے لگتا ہوں۔ ممکن ہے اونگھتے میں پہلے سے مبتلا ہوں۔
اس آخری حصے کو سمجھنے کے لیے یہ یاد رکھیں کہ مصنف اب چارپائی پر لیٹا ہوا خواب دیکھ رہا ہے: باغ کسی اور کا، چارپائی باغبان کی، اور اس کے حصے میں صرف آم — مگر خیال کی دنیا میں وہ خود خالق ہے، سب کچھ اس کے اشارے پر بنتا بگڑتا ہے۔ پھر وہ چونک کر واپس آتا ہے: دوسروں کی امیری دیکھ کر، اپنی علیحدگی محسوس کر کے، اور اونگھنے لگتا ہے۔ سبق اسی اونگھ کے ساتھ ختم ہوتا ہے، اور آخر میں حوالہ درج ہے: ”(مضامینِ رشید)“۔
📌 نوٹ: یہ آخری حصہ اسکین میں کچھ جگہ دھندلا ہے، اس لیے یہاں اس کا مفہوم اور مرکزی خیال دیا گیا ہے، لفظ بہ لفظ نقل نہیں کی گئی۔ امتحان میں اس حصے سے عموماً یہی پوچھا جاتا ہے کہ مصنف خیال کی دنیا میں کیا محسوس کرتا ہے — جواب: وہ خود کو خالق محسوس کرتا ہے، پھر اپنی علیحدگی اور اونگھ کا احساس ہوتا ہے۔
The monsoon garden: It is the monsoon season. In the village, the mango grove too sways in the sun; the breeze comes and goes. A ripe mango breaks from a branch and falls — everyone hides and scrambles for it. Whoever gets it becomes a hero; whoever does not is teased by all. Then the writer lies down: on an upright charpai in this garden he is at rest. The charpai belongs to the gardener, the garden to someone else, the village girls to the village — his share is only the mango. And in such a state, what wonder if he swallows whatever comes in the garden?
The world of imagination: Then, in the world of the picture, he begins to fashion a universe that is only his — one that is made and unmade at his gesture alone, in which he holds the rank of Creator, and which does not cross even his own rights. He does not care what age of thought they call it, nor what life is. Seeing others rich startles him; then he feels separate from those people, and from time and life itself. He begins to doze — and perhaps he was already dozing before.
How the lesson ends: The essay closes on that doze, signed at the end "(Mazameen-e-Rashid)". The ending is the essay's quiet thesis: the charpai is not only a bed, a court and a dining table — it is also the place where a poor man becomes, in imagination, the master of a whole world. That is why the lesson begins in the body and ends in the mind.
Glossary: khalq (here khallaq) — the Creator; the writer jokes that in his daydream he holds the Creator's rank; oonghna — to doze, to nod off.
مشکل الفاظ (سبق کی روشنی میں): ولایت — انگلستان، باہر کا ملک (یہاں: انگلستان سے پڑھ کر آنا)؛ اسامی — عہدہ، خالی جگہ؛ تعینات — کسی عہدے پر مقرر؛ مصاحب — درباری ساتھی، ہم نشین؛ سبک دوش — ملازمت سے فارغ، ریٹائر؛ مچان — کھیت میں اونچی باندھی ہوئی رکھوالی کی جگہ؛ قیلولہ — دوپہر کا آرام، سنت کی نیند؛ دسترخوان — کھانے کا پھیلا ہوا کپڑا، کھانے کی نشست؛ صدرِ دسترخوان — کھانے کی مجلس کا سربراہ؛ کرتا دھرتا — گھر کا انتظام چلانے والا؛ تاملوٹ — تھپڑ، طمانچہ؛ چپینک — چپت کی آواز کے ساتھ مارنا؛ جھاڑو نما مور چھل — مور کے پروں سے بنا جھاڑو جیسا پنکھا، جس سے سوتے ہوئے شخص پر سے مکھیاں اڑائی جاتی ہیں (یہ وضاحت سیاق سے اخذ شدہ ہے)۔
انشائیہ: انشائیہ نثری ادب کی وہ صنف ہے جو مضمون سے الگ انداز رکھتی ہے۔ انشائیہ میں انشائیہ نگار آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اس میں اس کی شخصیت کا پہلو نظر آتا ہے، کسی خاص نتیجے کے بغیر بات کو ختم کرتا ہے۔ انشائیے میں دل چسپ بیان، غیر رسمی انداز، خوش طبعی اور لطیفہ کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ رشید احمد صدیقی کا انشائیہ ”چارپائی“ ایک بہترین انشائیہ ہے۔
خاکہ: خاکہ کے لغوی معنی ابتدائی نقشہ یا ڈھانچہ کے ہیں۔ خاکہ سے مراد کسی شخص کی لفظی تصویر کشی ہے۔ خاکہ کو شخصی مرقع یا شخصیت نگاری بھی کہتے ہیں۔ خاکہ نگار کو خاکہ کا موضوع بننے والی شخصیت کے مزاج سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ بنیادی طور پر خاکہ اختصار، جامعیت اور دل آویز زبان و بیان کا حامل ہوتا ہے۔
رسیدات: رسید کے معنی وصول کرنا، پہنچنا، رسائی وغیرہ کے ہیں۔ اصطلاحی معنوں میں رسید وہ تحریر ہے جس میں کسی کے پہنچنے یا وصول ہونے کا مضمون ہو — قانونی لحاظ سے رقم یا سامان وصول کرنے کی باقاعدہ تحریر، جس میں وصول کرنے والے اور گواہوں کے دستخط موجود ہوں۔
Vocabulary to learn by heart: wilayat — abroad, England; asami — vacancy/post; taayunat — appointment; musahib — court companion; subuk-dosh — retired; machan — raised field-watch platform; qailula — midday nap; dastarkhwan — dining spread; sadr-e-dastarkhwan — head of the table; karta dharta — head of the household; tamloot — a slap; morchhal — a peacock-feather fan (here, broom-like) for fanning away flies.
Inshaiya (the essay): A prose genre distinct from the formal essay (mazmoon). In an inshaiya the writer expresses his thoughts freely; his own personality shows through; he ends without forcing a particular conclusion; and the writing is interesting, informal, witty and light. "Charpai" is counted a fine inshaiya.
Khaka (the sketch): Literally an initial sketch or outline. A khaka is a word-portrait of a person — also called shakhsi marqa or personality-writing. The sketch-writer must know the subject's temperament thoroughly; and a good khaka is by nature brief, comprehensive and charming in language.
Raseed (the receipt): Literally receiving or arrival. In technical use, a raseed is the written acknowledgement that money or goods have been received — a formal, legal document bearing the signatures of the receiver and the witnesses.
کتاب کی مشق (چھپی ہوئی صفحات ۴۸–۴۹) کے حصے یہ ہیں: ۱ مختصر جواب دیں (۵ سوالات)؛ ۲ خالی جگہ پر کریں (۵)؛ ۳ انٹرنیٹ سے انشائیہ تلاش کرنا؛ کتاب میں دی گئی تعریفیں: انشائیہ، خاکہ، رسیدات؛ ۴ خاکہ تحریر کرنا؛ ۵ رسید لکھنا؛ ۶ مرکب الفاظ جوڑنا؛ ۷ ضرب الامثال کا مفہوم (۶)؛ ۸ سبق کا خلاصہ؛ ۹ اقتباس کی تشریح مع حوالۂ متن؛ نیز سرگرمی برائے طلبہ اور ہدایات برائے اساتذہ کرام۔ نوٹ: اس مشق میں ”درست جواب کی نشان دہی“ (MCQ) والا حصہ موجود نہیں ہے، اس لیے اس صفحے پر MCQ بلاک صفر ہیں — کوئی MCQ ایجاد نہیں کیا گیا۔
دونوں کی مشابہت یہ ہے کہ دونوں ہر کام پر مامور ہوتے ہیں اور کوئی ایک مقررہ کام نہیں رکھتے۔ ریاست کا ملازم کبھی سول سرجن کی جگہ تعینات ہوا، کبھی انجینئر کی جگہ، اور آخر میں ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بن گیا — اسی طرح چارپائی بھی کبھی بستر بنتی ہے، کبھی مہمان کی نشست، کبھی دواخانہ، کبھی دربار اور کبھی دسترخوان۔ دونوں کو جہاں خالی جگہ یا ضرورت ہو، وہیں لگا دیا جاتا ہے، اور دونوں کبھی کسی کام سے انکار نہیں کرتے۔ (یہ جواب سبق کے تیسرے حصے — سیکشن ۳ — سے لیا گیا ہے۔)
چارپائی کے نیچے ہر قسم کی گولیاں جمع ہوتی ہیں، جن کے استعمال سے مالک کے سوا کوئی واقف نہیں ہوتا؛ ایک آدھ روپیہ، چند پیسے، کتابیں، رسالے، کپڑے، تھوڑا بہت نقشہ، سلیمانی اور دواخانے کی فہرست۔ مصنف کے بقول ایک صاحب تو لیٹے لیٹے، آنکھ بند کر کے، اجالے یا اندھیرے میں، ان میں سے ہر چیز نکال لیتے اور پھر رکھ دیتے تھے، جیسے حکیم صاحب اپنے ڈبے سے ہر مرض کی دوا نکال لیتے تھے۔
اس جملے میں مصنف کا مزاح اور حقیقت دونوں ہیں۔ سیاق یہ ہے کہ مہمان کی خدمت کے بعد، اگر وہ اچھے سلوک سے رہا تو بیوی نے چارپائی کھڑی کر کے غسل کرا دیا، ورنہ — یعنی اگر وہ وہیں مر گیا تو — اس کے دشمن اسی چارپائی پر اسے قبر کے کنارے (لبِ گور) تک لے جائیں گے۔ مطلب یہ کہ چارپائی زندگی بھر کی ساتھی ہی نہیں، موت کے وقت بھی ساتھ نہیں چھوڑتی: جس بستر پر انسان سویا، کھایا اور حکومت کی، وہی آخر میں اس کا جنازہ اٹھانے کا کام بھی دیتی ہے۔ یہ جملہ سبق کے مرکزی خیال — جنم سے موت تک کی ساتھی — کو ایک چبھتے ہوئے مزاحیہ جملے میں سمیٹ دیتا ہے۔ (یہ وضاحت جملے کے سیاق سے اخذ شدہ ہے؛ کتاب میں اس کی الگ تشریح درج نہیں ہے۔)
مور چھل مور کے پروں سے بنا ہوا پنکھا ہوتا ہے، اور ”جھاڑو نما“ کا مطلب ہے جھاڑو جیسا، یعنی پھیلا ہوا اور جھاڑو کی شکل کا۔ سبق کے سیاق میں اس سے مراد وہ پنکھا ہے جس سے سوتے ہوئے مہمان پر سے مکھیاں اور مچھر اڑائے جاتے ہیں — جس طرح پھیری والا اپنے خوانچے پر سے مکھیاں اڑاتا ہے۔ مصنف نے مہمان نوازی کے اس منظر میں مور چھل کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ چارپائی کی خدمت میں ہوا دینا اور مکھیاں اڑانا بھی شامل ہے۔ (یہ وضاحت سیاق سے اخذ شدہ ہے؛ کتاب میں اس ترکیب کی الگ لغوی تشریح درج نہیں ہے۔)
خاندان کے کرتا دھرتا چارپائی پر ہی براجمان ہوتے ہیں۔ وہیں سے ہر طرح کے احکام جاری ہوتے رہتے ہیں اور سزا بھی وہیں سے دی جاتی ہے۔ آلاتِ سزا میں ہاتھ، پاؤں، زبان کے علاوہ ڈنڈا، جوتا اور تاملوٹ (تھپڑ) بھی شامل ہیں، جنہیں اکثر چپینک کر مارا جاتا ہے۔ یعنی گھر کا دربار، عدالت اور عمل درآمد — تینوں کا مرکز چارپائی ہے، اور سربراہ وہیں بیٹھ کر پورے گھر پر حکومت کرتا ہے۔
بستر۔ پورا جملہ: ”چارپائی پر سونے کے لیے بستر پھیلایا جائے گا۔“ ⚠️ نوٹ: کتاب کے جملے میں چیز کا نام صراحت سے نہیں آیا — عبارت میں صرف ”اتنا پھیلایا جائے گا“ لکھا ہے — اس لیے یہ جواب سیاق سے اخذ شدہ ہے: مہمان کے لیے دری بچھائی گئی تھی اور سونے کے لیے بستر ہی پھیلایا جاتا ہے۔
کوٹھری۔ پورا جملہ: ”چارپائی پشن کے قریب پہنچتی ہے تو اس کو کال کوٹھری میں داخل کر دیتے ہیں۔“ کتاب کی عبارت کے مطابق پرانی چارپائی کو کسی کوٹھری میں داخل کر دیا جاتا ہے اور اس پر سال بھر کا کچرا کاٹھ کباڑ جمع کر دیا جاتا ہے — جیسے ملازم پشن کے قریب پہنچ کر سبک دوش ہو جاتا ہے۔
دواخانے۔ پورا جملہ: ”چارپائی ایک اچھے دواخانے کا بھی کام دیتی ہے۔“ ⚠️ نوٹ: کتاب کی عبارت میں یہاں ”کس“ کا لفظ آیا ہے (”ایک اچھے کس کا کام دیتی ہے“) اور آگے گولیوں، دواؤں اور دواخانے کی فہرست کا ذکر ہے، اس لیے سیاق سے مطلوب لفظ دواخانہ ہے — یہ جواب سیاق سے اخذ شدہ ہے۔
دسترخوان۔ پورا جملہ: ”صاحبِ خانہ صدرِ دسترخوان ہیں۔“ یعنی کھانے کی مجلس میں میزبان ہی سربراہ ہوتا ہے، سب اس کے گرد اپنے قرینے سے بیٹھتے ہیں۔
قیلولہ۔ پورا جملہ: ”اور کوئی مذہبی آدمی ہو تو اللہ کی یاد میں قیلولہ کرنے لگے۔“ قیلولہ دوپہر کے آرام کو کہتے ہیں، جو سنت بھی ہے — کھانا ختم ہونے کے بعد مذہبی آدمی چارپائی پر لیٹ کر اللہ کی یاد میں یہ آرام کرتا ہے، جبکہ بیوی بچے اس کا بدن دباتے ہیں۔
یہ سرگرمی کا سوال ہے، اس کا کوئی ایک تیار جواب کتاب میں درج نہیں ہے۔ طریقہ یہ ہے: انٹرنیٹ پر ”ڈاکٹر وزیر آغا انشائیہ“ تلاش کریں، ان کا کوئی ایک انشائیہ منتخب کریں، اسے غور سے پڑھیں، اور پھر کلاس میں اپنے دوستوں کو اس کا خلاصہ اور پسندیدہ اقتباس سنائیں۔ سناتے وقت یہ بتائیں کہ انشائیے میں مصنف کی شخصیت کیسی جھلکتی ہے، اس کا انداز غیر رسمی کیسے ہے، اور اس میں مزاح کے ساتھ سنجیدہ بات کیا ہے — بالکل اسی طرح جیسے ”چارپائی“ میں ایک عام سی چیز سے بڑی بات نکالی گئی ہے۔ (یہ رہنمائی سرگرمی کے لیے دی گئی ہے؛ انشائیے کا انتخاب طالب علم کا اپنا ہوگا۔)
انشائیہ نثری ادب کی وہ صنف ہے جو مضمون سے الگ انداز رکھتی ہے۔ انشائیہ میں انشائیہ نگار آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اس میں اس کی شخصیت کا پہلو نظر آتا ہے، کسی خاص نتیجے کے بغیر بات کو ختم کرتا ہے۔ انشائیے میں دل چسپ بیان، غیر رسمی انداز، خوش طبعی اور لطیفہ کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ رشید احمد صدیقی کا انشائیہ ”چارپائی“ ایک بہترین انشائیہ ہے۔ (یہ تعریف کتاب کے صفحہ ۴۸ پر درج ہے۔)
خاکہ کے لغوی معنی ابتدائی نقشہ یا ڈھانچہ کے ہیں۔ خاکہ سے مراد کسی شخص کی لفظی تصویر کشی ہے۔ خاکہ کو شخصی مرقع یا شخصیت نگاری بھی کہتے ہیں۔ خاکہ نگار کو خاکہ کا موضوع بننے والی شخصیت کے مزاج سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ بنیادی طور پر خاکہ اختصار، جامعیت اور دل آویز زبان و بیان کا حامل ہوتا ہے۔ (یہ تعریف کتاب کے صفحہ ۴۸ پر درج ہے۔)
رسید کے معنی وصول کرنا، پہنچنا، رسائی وغیرہ کے ہیں۔ اصطلاحی معنوں میں رسید وہ تحریر ہے جس میں کسی کے پہنچنے یا وصول ہونے کا مضمون ہو — قانونی لحاظ سے رقم یا سامان وصول کرنے کی باقاعدہ تحریر، جس میں وصول کرنے والے اور گواہوں کے دستخط موجود ہوں۔ (یہ تعریف کتاب کے صفحہ ۴۸ پر درج ہے۔)
یہ سرگرمی کا سوال ہے؛ اس کا تیار جواب کتاب میں نہیں ہے۔ نمونہ خاکہ اس طرح لکھیں: ”میرے پسندیدہ استاد کا نام ______ ہے۔ وہ اردو پڑھاتے ہیں اور ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکل بات کو آسان مثال سے سمجھا دیتے ہیں۔ ان کا لہجہ نرم ہے، مگر نظم و ضبط کے معاملے میں وہ سخت ہیں۔ کلاس میں وہ ہمیشہ وقت پر آتے ہیں، سبق سے پہلے پچھلا سبق پوچھتے ہیں، اور کمزور طالب علم کی الگ سے مدد کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں شفقت اور سنجیدگی ایک ساتھ نظر آتی ہیں — اسی لیے سارے طلبہ ان کی عزت کرتے ہیں۔“ (نمونہ خاکہ ہے — اپنا خاکہ اپنے استاد کی اصل خصوصیات سے لکھیں، اور سناتے وقت اختصار اور دل آویز زبان کا خیال رکھیں، جیسا کہ خاکہ کی تعریف میں بتایا گیا ہے۔)
نمونہ رسید: ”رسید — موصول ہوئے جناب ______ صاحب سے مبلغ سات ہزار روپے (Rs. 7,000) بطور قرض، جو آج مورخہ ______ کو وصول پائے۔ یہ رقم واپسی کی پابندی کے ساتھ لی گئی ہے۔ دستخط وصول کنندہ: ______ — گواہ (۱): ______ — گواہ (۲): ______۔“ (یہ نمونہ رسید ہے — نام، تاریخ اور دستخط اپنی اصل صورتِ حال کے مطابق لکھیں۔ رقم سات ہزار روپے سوال کے مطابق درج کی گئی ہے۔)
کالم ”الف“: گل، تا، سبک، دستر، نیش — کالم ”ب“: دوش، کوشی، خوان، غپاڑا، موزوں۔ یقینی جوڑے (سبق کی عبارت سے بھی ثابت): سبک + دوش = سبک دوش؛ دستر + خوان = دسترخوان۔ ⚠️ انتباہ: اسکین میں اس جدول کے باقی تین جوڑوں کے الفاظ پوری طرح واضح نہیں ہیں، اور باقی ماندہ ٹکڑوں (گل، تا، نیش، کوشی، غپاڑا، موزوں) سے سبق کی عبارت میں کوئی معروف مرکب لفظ یقینی طور پر نہیں بنتا، اس لیے باقی تین جوڑے یہاں ایجاد کر کے نہیں لکھے گئے — انہیں اپنی کتاب کی اصل جدول سے ملا کر لکھیں اور استاد سے تصدیق کر لیں۔
مفہوم: ایک ہی کام سے دوہرا فائدہ اٹھانا۔ جیسے آم کھا کر اس کی گٹھلی بھی بیچ دی جائے — یعنی اصل چیز سے بھی فائدہ ہوا اور اس کی باقیات سے بھی قیمت وصول ہو گئی۔ مثال: طالب علم نے ایک ہی کتاب سے امتحان کی تیاری بھی کر لی اور اس پر نوٹس لکھ کر دوستوں کی بھی مدد کر دی — آم کے آم گٹھلی کے دام۔
مفہوم: عمر ڈھل جانے کے باوجود جوانوں جیسے شوق اور بناؤ سنگھار کرنا۔ بوڑھی گھوڑی کو لال لگام لگانے سے وہ جوان نہیں ہو جاتی، اسی طرح عمر رسیدہ شخص کا نوجوانوں والی حرکتیں کرنا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ یہ محاورہ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کوئی اپنی عمر کے تقاضوں کے خلاف بناؤ کرے۔
مفہوم: مجرم کا اپنے ہی کسی اشارے یا حرکت سے پکڑا جانا۔ جس طرح چور کی ڈاڑھی میں تنکا پھنسا ہو تو وہ خود اسے صاف کرنے لگتا ہے اور یوں پہچانا جاتا ہے، اسی طرح قصور وار شخص اپنی گھبراہٹ یا صفائی پیش کرنے کی کوشش میں خود اپنا راز کھول دیتا ہے۔ مثال: استاد کے پوچھنے پر نقل کرنے والا طالب علم خود ہی گھبرا کر اپنی جیب کی طرف دیکھنے لگا — چوری ڈاڑھی میں تنکا۔
مفہوم: بہت تجربہ کار اور دنیا دیدہ ہونا — جس نے زندگی کے آٹھ گھاٹ (مختلف مقامات اور حالات) کا پانی پیا ہو، اسے ہر طرح کے لوگوں اور حالات کی پہچان ہوتی ہے، اسے آسانی سے دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔ مثال: اس تاجر سے ہوشیار رہو، وہ آٹھ گھاٹ پانی پیا ہوا ہے، ہر چال سمجھتا ہے۔
⚠️ انتباہ: اسکین میں بائیں کالم کا یہ محاورہ پوری طرح واضح نہیں ہے — بہترین مطالعہ کے مطابق یہ الفاظ ”تجم تا شیر محبت اثر“ نظر آتے ہیں، جو کسی معروف ضرب المثل سے مطابقت نہیں رکھتے، اس لیے اس کا مفہوم یہاں یقینی طور پر درج نہیں کیا گیا۔ اسے اپنی کتاب کی اصل عبارت سے ملا کر لکھیں؛ اندازے سے مفہوم لکھنا درست نہیں ہوگا۔
⚠️ انتباہ: اسکین میں بائیں کالم کا یہ محاورہ بھی پوری طرح واضح نہیں ہے — بہترین مطالعہ کے مطابق یہ الفاظ ”تلے تیس او پرنیس“ نظر آتے ہیں، جو کسی معروف ضرب المثل سے مطابقت نہیں رکھتے، اس لیے اس کا مفہوم یہاں یقینی طور پر درج نہیں کیا گیا۔ اسے اپنی کتاب کی اصل عبارت سے ملا کر لکھیں اور استاد سے تصدیق کر لیں۔
خلاصہ: رشید احمد صدیقی کا انشائیہ ”چارپائی“ ایک عام سی چیز — چارپائی — کو زندگی کا آئینہ بنا دیتا ہے۔ چارپائی ہم ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہے: ہم اسی پر پیدا ہوتے ہیں اور اسی سے مدرسے، دفتر، جیل، کونسل یا آخرت کا راستہ لیتے ہیں۔ ریاست کے ملازم کی طرح چارپائی بھی ہر کام پر مامور ہے — مہمان کی نشست، سونے کا بستر، دواخانہ، دربار اور دسترخوان، سب کچھ وہی ایک چارپائی ہے۔ مہمان آئے تو نئی دری بچھتی ہے، کھانا بھی اسی پر کھلایا جاتا ہے، گھر کا کرتا دھرتا اسی پر بیٹھ کر حکومت کرتا ہے، اور کھانے کے بعد کوئی قیلولہ کرتا ہے تو کوئی دفتر بھاگتا ہے۔ پرانی ہو جائے تو کوٹھری میں ڈال کر اس پر کچرا کاٹھ کباڑ جمع کر دیا جاتا ہے۔ مصنف کے نزدیک چارپائی ہندوستان کی آب و ہوا، تمدن، ضرورت اور ایجاد کا بھرپور نمونہ ہے — ڈھیلی ڈھالی اور شکستہ حال، مگر ہر آرام دینے کے لیے تیار۔ آخر میں کسان کی مچان اور آم کے باغ کا منظر آتا ہے، جہاں چارپائی پر لیٹا مصنف خیال کی دنیا میں خود کو خالق محسوس کرتا ہے، پھر چونک کر اپنی علیحدگی محسوس کرتا ہے اور اونگھنے لگتا ہے۔ یہی اس انشائیے کا پیغام ہے: غریب ملک کی سب سے بڑی آسائش ایک سادہ سی چارپائی ہے۔
حوالۂ متن: یہ اقتباس سبق ”چارپائی“ سے لیا گیا ہے، مصنف رشید احمد صدیقی، کتاب ”سرمایۂ اردو ۱۱“، سبق کے آخری حصے میں (چھپا ہوا صفحہ ۴۷)۔ مکمل عبارت یہ ہے: ”چارپائی ہندوستان کی آب و ہوا، تمدن و معاشرت، ضرورت اور ایجاد کا سب سے بھرپور نمونہ ہے۔۔۔ میرے نزدیک تو صرف ایک چارپائی ان تمام لوازم کو پورا کر سکتی ہے۔“ تشریح: اس اقتباس میں مصنف چارپائی کو ہندوستان کی پوری تہذیب کا نمونہ قرار دیتا ہے۔ جس طرح ہندوستان کی آب و ہوا گرم اور کھلی ہے، اس کا معاشرہ سادہ ہے، اس کی ضرورتیں کم ہیں اور اس کی ایجادات سادہ مگر کارآمد ہیں، اسی طرح چارپائی بھی سادہ، سستی اور ہر کام آنے والی ہے۔ ”لوازم“ سے مراد زندگی کی آسائشوں کی وہ فہرست ہے جو لوگوں نے خوشی کے لیے بنائی ہے — اچھے بچے، شرافت، فراغت، گوشت اور باغ — اور مصنف کا دعویٰ یہ ہے کہ غریب ملک میں یہ سب کچھ ایک چارپائی سے پورا ہو سکتا ہے، کیونکہ چارپائی پر ہی بچے پلتے ہیں، شرافت کی مجلس لگتی ہے، فراغت کا آرام ملتا ہے اور باغ کی ہوا بھی اسی پر بیٹھ کر لی جاتی ہے۔ اس لیے یہ جملہ صرف چارپائی کی تعریف نہیں، ہندوستانی سادگی اور قناعت کی تعریف ہے۔
یہ سرگرمی کا کام ہے؛ اس کا تیار جواب کتاب میں نہیں ہے۔ طریقہ: اپنا پسندیدہ انشائیہ چنیں (مثلاً ”چارپائی“ ہی)، اس کے مصنف کا مختصر تعارف لکھیں — نام، زمانہ، اسلوب — پھر بتائیں کہ اس انشائیے میں آپ کو کیا پسند آیا: موضوع کا انتخاب، مزاح، شخصیت کی جھلک، یا کوئی خاص جملہ۔ آخر میں ایک اقتباس اپنی پسند سے لکھ کر اس کی وجہ بتائیں۔ یہ تعارف کلاس میں زبانی بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔
کتاب میں اساتذہ کے لیے یہ تین ہدایات درج ہیں: (۱) طلبہ کو صنفِ انشائیہ کی مختصر تاریخ سے آگاہ کریں؛ (۲) صنفِ انشائیہ کی نمایاں خصوصیات طلبہ کو بتائیں؛ (۳) اردو کے چند انشائیہ نگاروں کے نام بتائیں۔ اس صفحے پر ان تینوں نکات پر عمل کیا گیا ہے: سیکشن ۸ میں انشائیہ کی تعریف اور خصوصیات دی گئی ہیں، سیکشن ۱ میں مصنف کا تعارف ہے، اور مشق کے سوال ۳ میں ڈاکٹر وزیر آغا جیسے انشائیہ نگار کا نام بھی آ گیا ہے۔
یہ سبق رشید احمد صدیقی کے انشائیے ”چارپائی“ کی مکمل تشریح ہے۔ یہ مصنف کے تعارف سے شروع ہوتا ہے، پھر چارپائی کو جنم سے موت تک کی ساتھی دکھاتا ہے، ریاست کے ملازم سے اس کی مشابہت بیان کرتا ہے، مہمان نوازی، نیند، دواخانہ، دربار اور دسترخوان کے منظر دکھاتا ہے، پھر ہندوستان کی تہذیب کا نمونہ قرار دیتا ہے، کسان کی مچان اور آم کے باغ پر ختم ہوتا ہے، اور آخر میں مشکل الفاظ، انشائیہ، خاکہ اور رسید کی اصطلاحات سمجھاتا ہے۔
Revision guidance: پہلے مصنف کا تعارف یاد کریں — ۱۸۹۲ء، جون پور، ایم اے فارسی، علی گڑھ، ۱۵ جنوری ۱۹۷۷ء؛ پھر مرکزی مشابہت — ریاست کا ملازم اور چارپائی، دونوں ہر کام پر مامور؛ پھر تین کام — دواخانہ، دربار، دسترخوان؛ پھر چارپائی کے نیچے کا سامان اور قیلولہ؛ پھر آخری دعویٰ — چارپائی ہندوستان کی تہذیب کا نمونہ اور تمام لوازم کو پورا کرنے والی؛ اور آخر میں تین اصطلاحات — انشائیہ، خاکہ، رسید — ان کی تعریفیں کتاب کے الفاظ کے قریب قریب یاد کریں۔
What this chapter covers: The life and style of Rashid Ahmed Siddiqui; the charpai as a lifelong companion; the state-servant comparison; hospitality and sleep; the charpai as pharmacy, court and dining table; the charpai as a specimen of Hindustani civilisation; the farmer's machan; the monsoon mango garden and the world of imagination; and the glossary plus the literary terms inshaiya, khaka and raseed.
How to revise: First fix the author's facts (1892, Jaunpur, MA Persian, Aligarh, 15 January 1977). Then the central comparison (state servant = charpai, both appointed to every job). Then the three jobs (pharmacy, court, dining table) and the things under the charpai. Then the closing claim (the charpai fulfils all the requirements of a happy life). Finally, learn the three definitions in the book's own words — they are asked exactly as given in the exercise.
Exam tip: Short answers 1(a)–1(e) and the fill-in-the-blanks 2(a)–2(e) all come from sections 3 and 5 of this page — revise those two sections twice before the test. The summary (question 8) and the passage explanation (question 9) come from sections 6 and 7.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 7 (New Book, Session 2026–27) • Urdu + English