
اس سبق کا اصل متن (کتاب کے صفحات 51 تا 59) دستیاب نسخے میں موجود نہیں تھا، اس لیے اس صفحے میں صرف وہ مواد شامل ہے جس کی تصدیق ہو سکی ہے — مصنفہ کا تعارف (صفحہ 50) اور فرہنگ کے الفاظ (صفحات 143 تا 148) — اور اس کے ساتھ SLO طرز کے مطالعاتی سوالات۔ یہ سوالات کتاب کی سرکاری مشق نہیں ہیں؛ سرکاری مشق کے لیے اصل کتاب کا متن ضرور دیکھیں۔
Important notice: This lesson's original text (book pp. 51–59) was missing from the available copy, so this page contains only verified material — the author's introduction (p. 50) and the Farhang words (pp. 143–148) — plus clearly-labelled SLO-style study questions. These questions are NOT the book's official exercise; please consult the original book text for the official exercise.
سبق 8 کی مصنفہ خدیجہ مستور (۱۹۲۷ء تا ۱۹۸۲ء) ہیں۔ وہ بریلی کے یوسف زئی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور بریلی کے نزدیک ایک گاؤں کے متوسط پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام غلام علی خان تھا اور وہ ملازمت پیشہ تھے، اس لیے خاندان کی ابتدائی زندگی مختلف مقامات پر گزری۔ ان کی والدہ انور جہاں ایک اچھی شاعرہ اور مضمون نگار تھیں، چنانچہ خدیجہ مستور کو بچپن ہی سے ادبی ماحول میسر آیا۔
مگر جب وہ صرف نو برس کی تھیں، ان کے والد وفات پا گئے۔ اس کے بعد خاندان کو معاشی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور تعلیم کا سلسلہ بھی کچھ عرصے کے لیے منقطع ہو گیا۔ خدیجہ مستور نے ہمت نہ ہاری؛ اپنی محنت اور مطالعے کے شوق سے انہوں نے وسیع مطالعہ کیا اور معاشرے کے حقائق کا گہرا ادراک حاصل کیا۔ یہی محنت بعد میں ان کی تحریروں میں نظر آتی ہے۔
ان کی چھوٹی بہن ہاجرہ مسرور (۱۹۳۰ء تا ۲۰۱۲ء) بھی معروف ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد دونوں بہنیں اپنے گھر کے ساتھ پہلے کراچی اور پھر لاہور آ گئیں۔ ایک طالب علم کے لیے یہ بات یاد رکھنا آسان ہے: مصنفہ کی اپنی زندگی میں بھی وہی ہجرت، محنت اور نئے وطن میں جمنے کی کہانی ہے جو ان کے ناولوں کا پس منظر بنتی ہے۔
The author of Lesson 8 is Khadija Mastoor (1927–1982). She belonged to the Yousufzai family of Bareilly and was born in a middle-class Pathan family in a village near Bareilly. Her father, Ghulam Ali Khan, was in service, so the family lived in different places in her early years. Her mother, Anwar Jahan, was a good poet and essayist, so Khadija grew up in a literary home from childhood.
When she was only nine, her father died. The family then faced financial hardship, and her education was interrupted for a time. She did not give up: through her own hard work and love of reading, she built wide knowledge and a deep understanding of society. That hard-won understanding is exactly what you later feel in her writing.
Her younger sister Hajira Masroor (1930–2012) was also a well-known novelist and short-story writer. After the creation of Pakistan, both sisters moved with their family first to Karachi and then to Lahore. For a student, this is an easy way to remember her: her own life also carries the story of migration, hard work and settling in a new homeland — the very background of her novels.
خدیجہ مستور کو ابتدا ہی سے افسانوی ادب سے فطری لگاؤ تھا۔ انہوں نے ۱۹۴۲ء میں لکھنا شروع کیا اور ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ «کھیل» ۱۹۴۴ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد «بوچھاڑ» (۱۹۴۶ء)، «چند روز اور» (۱۹۵۱ء) اور «تھکے ہارے» (۱۹۶۲ء) شائع ہوئے۔ ان کا ناول «آنگن» (۱۹۶۲ء) بھی اسی سال سامنے آیا اور اس پر انہیں آدم جی ادبی انعام ملا۔ ان کی آخری تصنیف «زمین» ان کی وفات کے بعد ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی۔
ناول نگاروں میں خدیجہ مستور کا نام اس لحاظ سے اہم ہے کہ انہوں نے اپنے ناول «آنگن» میں سماجی حقیقت نگاری سے کام لیا ہے۔ «آنگن» ایک خاندان کی کہانی ہے، لیکن اس کہانی کے ذریعے انہوں نے قیامِ پاکستان کے وقت کے ایک متوسط مسلمان گھرانے کی تصویر کشی کی ہے — اس کی کشمکش، اس کے جذبات اور اس کے سماجی و معاشرتی رجحانات سمیت۔
«آنگن» کی زبان نہایت شستہ، رواں اور روزمرہ کی زبان ہے۔ خدیجہ مستور کا اسلوب سادہ، بے تکلف اور عام فہم ہے، اور یہی اسلوب ناول کے موضوع، کرداروں اور ان کے احساسات و معاملات کے اظہار پر قادر ہے۔ یاد رکھو: سبق 8 کا عنوان «اور پاکستان بن گیا» بھی اسی دور کی طرف اشارہ کرتا ہے — اس لیے مصنفہ کا یہ تعارف پڑھنا سبق کی تیاری کا پہلا اور مضبوط قدم ہے، چاہے اصل متن ابھی دستیاب نہ ہو۔
Khadija Mastoor had a natural love of fiction from the start. She began writing in 1942, and her first collection of short stories, Khel (1944), was followed by Bochhar (1946), Chand Roz Aur (1951) and Thakay Haray (1962). Her novel Aangan (1962) appeared in the same year and won her the Adam Ji Literary Award. Her last work, Zameen, was published after her death, in 1983.
Among women novelists, Khadija Mastoor matters because Aangan works through social realism — it tells life as it really is. Aangan is the story of one family, but through that family she draws a picture of a middle-class Muslim household at the time of Pakistan's creation: its struggles, its feelings, and its social and political outlook.
The language of Aangan is polished, flowing, everyday language. Her style is simple, informal and easy to understand, and that very style is able to carry the novel's subject, its characters and all their feelings. Remember this: Lesson 8's title, “Aur Pakistan Ban Gaya”, also points to that same period — so reading this author introduction is a strong first step in preparing the lesson, even while the original text itself is not yet available.
کتاب کے آخر میں دی گئی فرہنگ (صفحات 143 تا 148) میں سبق 8 کے لیے صرف پانچ الفاظ درج ہیں۔ یہی پانچ الفاظ اس صفحے پر پوری دیانت سے دیے جا رہے ہیں — نہ کوئی لفظ بڑھایا گیا ہے، نہ کوئی معنی گھڑا گیا ہے۔ پہلے لفظ کو دیکھو، پھر معنی کو اپنی زبان میں دہراؤ، پھر اپنا جملہ بناؤ۔ یہی طریقہ فرہنگ یاد کرنے کا سب سے پکا طریقہ ہے۔
| لفظ | معنی (فرہنگ کے مطابق) |
|---|---|
| بلکنا | سسکیاں بھر کے رونا، پھل کر رونا |
| بوکھلانا | بدحواس ہونا |
| بھرا پرا گھر | پر رونق گھر |
| بے سدھ | بے خبر |
| پاؤں نکالنا | حد سے تجاوز کرنا |
📌 ایک چھوٹی سی احتیاط: «بلکنا» صرف رونے کا نام نہیں، بلکہ سسکیوں کے ساتھ رونا ہے؛ اور «پاؤں نکالنا» کا مطلب چلنا نہیں، بلکہ اپنی حد سے آگے بڑھ جانا ہے۔ امتحان میں اکثر اسی فرق پر سوال بنتا ہے۔
The book's Farhang (pp. 143–148) lists only five words for Lesson 8. Those same five words — nothing added, no meaning invented — are given on this page. Look at the word first, say the meaning in your own words, then make your own sentence. That three-step habit is the surest way to learn a Farhang.
| Word | Meaning (as in the Farhang) |
|---|---|
| Balakna | To weep with sobs, to cry one's heart out |
| Baukhlana | To lose one's senses, to become bewildered |
| Bhara pura ghar | A lively, flourishing home |
| Be-sudh | Unaware, senseless (not knowing what is happening) |
| Paon nikalna | To go beyond one's limit, to overstep |
📌 A small caution: balakna is not just crying, it is crying with sobs; and paon nikalna does not mean walking — it means going past your proper limit. Exams often test exactly that difference.
نیچے دیے گئے سوالات کتاب کی سرکاری مشق نہیں ہیں۔ یہ SLO طرز کے مطالعاتی سوالات ہیں — یعنی ان موضوعات پر سوالات جن کی تیاری سے آپ اس سبق کے لیے تیار رہیں گے، جب اصل متن مل جائے گا۔ ان کے جوابات بھی مطالعاتی رہنمائی ہیں، کتاب کے جوابات نہیں۔ اصل متن (صفحات 51 تا 59) ملتے ہی سرکاری مشق ضرور حل کریں۔
The questions below are NOT the book's official exercise. They are SLO-style study questions — questions on the themes of this lesson, so that you stay prepared for it until the original text becomes available. Their answers are study guidance, not book answers. As soon as you get the original text (pp. 51–59), do the official exercise as well.
عنوان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ lesson Pakistan کے بننے کے دور سے متعلق ہے — یعنی وہ وقت جب ایک نیا وطن وجود میں آیا اور لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں. عنوان میں “اور” کا لفظ یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے: پہلے کچھ ہوا, پھر Pakistan بن گیا. جب اصل متن ملے تو پہلے یہ دیکھو کے عنوان متن کے کس حصے سے جڑتا ہے, پھر اپنا جواب اسی سے ملاؤ.
تعارف سے یہ پتہ چلتا ہے کہ لکھنے والی کون ہے, اس کا pas-e-منظر کیا ہے اور وہ کس دور کی گواہ ہے. خدیجہ مستور نے خود ہجرت اور نئے وطن میں جمنے کا دور دیکھا, اور ان کا novel آنگن اسی دور کے ایک گھرانے کی تصویر ہے — اس لیے تعارف پڑھ کر lesson کا ماحول پہلے سے سمجھ میں آ جاتا ہے, اور متن پڑھتے وقت آپ اندازے نہیں لگاتے, بلکہ پہچانتے ہیں.
بڑی تاریخ اکثر عام لوگوں کی چھوٹی زندگیوں میں نظر آتی ہے: گھر کا ماحول, رشتے, فکریں اور امیدیں. آنگن میں ایک اوسط مسلمان گھرانے کی تصویر اسی لیے قیمتی ہے کہ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ Pakistan کا بن'نہ صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا, بلکہ لاکھوں گھروں کی زندگی کا مور تھا. Study guidance: جب متن ملے, تو یہ note کرو کہ lesson میں گھر, خاندان یا روزمرہ زندگی کا ذکر کہاں آتا ہے.
Balakna کا مطلب سسکیاں بھر کے رونا ہے — یہ ایک جذباتی کیفیت ہے, جیسے غم میں زور زور سے رونا. بوکھلانا کا مطلب بدحواس ہونا ہے — یعنی گھبراہٹ یا حیرانی میں سمجھ نہ آنا کے کیا کریں. مثالی جملے (اپنے لفظوں میں لکھنا بہتر ہے): “خوشخبری sun کر بھی وہ balakne لگی, کیوں کے اسے اپنے بچھڑے رشتے داروں کی یاد آ گئی.” / “اچانک شور sun کر وہ baukhla گیا اور سمجھ نہ سکا کے دروازہ کدھر ہے.”
بھرا پورا گھر کا مطلب پر-رونق گھر ہے — ایسا گھر جہاں log ہوں, آمد-o-raft ہو, خوش-ہالی اور زندگی نظر آئے. یہ ترکیب اس گھر کے لیے استعمال ہوتی ہے جو سنسان نہ ہو. مثال: “پہلے ان کا بھرا پورا گھر تھا, مگر ہجرت کے بعد وہ گھر خاموش ہو گیا.” Note کرو: یہ ترکیب گھر کی تعمیر یا size کے بڑے میں نہیں, اس کی رونق کے بڑے میں ہے.
بے-سدھ کا مطلب بے-خبر ہے — ایسا شخص جو ہوش یا خبر میں نہ ہو کے ارد-گرد کیا ہو رہا ہے. پاؤں نکالنا کا مطلب حد سے تجاوز کرنا ہے — اپنی مناسب حد سے آگے بڑھ جانا. مثالی جملے: “تھکن سے وہ بے-سدھ ہو کر so گیا.” / “اسے اپنے baron کے سامنے پاؤں نہیں نکالنا چاہیے, بلکہ ادب سے بات کرنی چاہیے.” اپنے جملے خود لکھو تو لفظ زیادہ دیر یاد رہتا ہے.
یہ ہجرت بتاتی ہے کہ Pakistan کے بننے کے بعد بہت سے خاندان نئے شہروں میں بسنے کے لیے سفر پر نکلے — پہلے ایک جگہ, پھر دوسری, جب تک مستقل ٹھکانہ نہ مل جائے. اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ اس دور کی کہانی صرف ایک شہر کی نہیں, بلکہ سفر, انتظار اور نئے سرے سے گھر بسانے کی کہانی ہے. Lesson کا متن ملنے پر یہ دیکھو کے اس میں سفر یا نئے ٹھکانے کا ذکر کس طرح آتا ہے.
پہلی مرتبہ متن کو پورا, آرام سے پڑھو اور مشکل لفظ نشان-زد کرو. دوسری مرتبہ فرہنگ کے پانچوں لفظ متن میں ڈھونڈو اور دیکھو کے وہ کس جملے میں آئے ہیں. تیسری مرتبہ lesson کے اہم واقعات اور کردار اپنے لفظوں میں note کرو. آخر میں book کی official exercise حل کرو اور اپنے جواب متن سے ملاؤ. یہ ترتیب اس لیے ہے کہ پہلے سمجھ, پھر لفظ, پھر سوال — الٹ ترتیب سے صرف رٹا لگتا ہے, سمجھ نہیں آتی.
اس صفحے میں آپ نے صرف وہی کچھ پڑھا ہے جس کی تصدیق ہو سکی ہے: مصنفہ خدیجہ مستور کا تعارف (صفحہ 50)، ان کی تصانیف اور ناول «آنگن»، اور فرہنگ کے پانچ الفاظ (صفحات 143 تا 148)۔ سبق کا اصل متن (صفحات 51 تا 59) اور اس کی سرکاری مشق اس صفحے میں شامل نہیں، کیونکہ وہ دستیاب نسخے میں موجود ہی نہیں تھے — اور جو چیز دیکھی نہیں گئی، اسے گھڑ کر لکھنا دیانت کے خلاف ہوتا۔
آگے کی رہنمائی: پہلے فرہنگ کے پانچ الفاظ پکے کرو، پھر SLO سوالات کے جواب اپنے لفظوں میں لکھ کر دیکھو، اور جیسے ہی اصل کتاب کا متن ملے، صفحات 51 تا 59 پڑھ کر سرکاری مشق حل کرو۔ اس وقت اس صفحے پر واپس آ کر دیکھنا کہ تمہارے SLO جوابات اصل متن سے کتنے ملتے ہیں — یہی موازنہ تمہاری اصل تیاری ہے۔
On this page you have read only what could be verified: the introduction of the author, Khadija Mastoor (p. 50), her works and the novel Aangan, and the five Farhang words (pp. 143–148). The lesson's original text (pp. 51–59) and its official exercise are not on this page, because they were simply not in the available copy — and writing what one has not seen would be dishonest.
What to do next: first master the five Farhang words, then write the SLO-question answers in your own words, and as soon as the original book text becomes available, read pp. 51–59 and solve the official exercise. Then come back to this page and compare your SLO answers with the real text — that comparison is your real preparation.
Revision guidance: یاد رکھو — 1927–1982, Bareilly, والد کی وفات جب وہ 9 سال کی thin, behn Hajira مسرور, Karachi پھر Lahore, کھیل 1944, آنگن 1962 اور Adam Ji Award, زمین 1983; فرہنگ: balakna, بوکھلانا, بھرا پورا گھر, بے-سدھ, پاؤں نکالنا. اور سب سے اہم: official exercise کے لیے book کے pp. 51–59 ضرور پڑھو.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 8 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu