FSc Part 1 Islamiat Chapter 4 Complete Guide Book — Akhlaq o Aadaab | PunjabTest.com

FSc Part 1 Islamiat Chapter 4 — Akhlaq o Aadaab
Home > PunjabTest.com > FSc Part 1 > Islamiat — all chapters > Chapter 4: Akhlaq o Aadaab

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

Ijtimai Khair Khwahi — Wanting Good for Everyoneاجتماعی خیر خواہی — سب کی بھلائی چاہنا
🏷 Tags: khair khwahi, ijtimai, Surah Al-Araf 68, Surah An-Naml, Hazrat Sulaiman, Surah Ar-Rad 17, Ad-Deen an-Nasihah
ENGLISH

What it means: Khair khwahi is sincerely wanting good for others — not just for yourself, your family or your own group, but for every creature of Allah. When this feeling becomes collective, shared by the whole society, it is called ijtima'i (collective) khair khwahi.

Key points: (1) Every prophet came as a well-wisher of his people — the Qur'an quotes one prophet saying, "I convey to you the messages of my Lord, and I am a sincere, trustworthy well-wisher for you" (Surah Al-A'raf: 68). (2) Even an ant practised it: in Surah An-Naml, an ant warned the other ants to enter their homes lest Sulaiman's army crush them unknowingly (verse 18) — that is why the Surah is named An-Naml, "The Ant". (3) The Qur'an gives a lasting rule: "As for that which benefits people, it remains on the earth" (Surah Ar-Ra'd: 17) — real, useful good never dies out. (4) The Prophet ﷺ summed up the whole religion in one word: "Religion is sincere well-wishing" (Sahih Muslim: 55). (5) Khair khwahi is not limited to humans: when the Companions asked whether kindness to animals also earns reward, he ﷺ replied, "Yes — in every living being there is reward for kindness" (Sahih Bukhari: 2363).

Remember: a person who helps widows and the poor is equal in reward to one who strives in Allah's path, or who prays all night and fasts all day (Sahih Bukhari: 5353).

اردو

اجتماعی خیر خواہی کا مطلب ہے کہ انسان صرف اپنی ذات، اپنے گھر یا اپنے گروہ کی بھلائی نہ چاہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کے لیے دل میں بھلائی کا جذبہ رکھے۔ جب یہ جذبہ پورے معاشرے میں عام ہو جائے تو اسے اجتماعی خیر خواہی کہتے ہیں۔

تمام انبیائے کرام اپنی قوموں کے خیر خواہ تھے۔ قرآن مجید میں ایک نبی کا قول نقل ہوا ہے: ’’میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمہارے لیے امانت دار خیر خواہ ہوں۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 68)۔ یعنی نبی کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچائے اور ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی چاہے۔

قرآن مجید کی ایک سورت کا نام سورۃ النمل ہے۔ اس سورت کا نام اس چیونٹی کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کو آتے دیکھ کر اپنی ساتھی چیونٹیوں کو خبردار کیا۔ ترجمہ: ’’یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، سلیمان (علیہ السلام) اور ان کا لشکر تمہیں کچل نہ دیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ (سورۃ النمل: 18)۔ ایک چھوٹی سی چیونٹی نے بھی دوسروں کی فکر کی — یہی خیر خواہی ہے۔

قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ’’اور وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔‘‘ (سورۃ الرعد: 17)۔ مطلب یہ کہ جو بھلائی لوگوں کے کام آئے، وہ باقی رہتی ہے اور اس کا اجر بھی باقی رہتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’دین خیر خواہی کا نام ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 55)۔ اور یہ خیر خواہی صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: کیا جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر بھی اجر و ثواب ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں! ہر جان دار کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا اجر ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 2363)۔ بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والے کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے، یا رات بھر عبادت اور دن روزے رکھنے والے کے برابر ہے (صحیح بخاری: 5353)۔

Hands sharing a food basket in front of a mosque
Is tasveer se samjho: خیرآباد خواہی صرف لفظوں کا نام نہیں — کھانا, وقت اور مدد بانٹنا ہی اصلی خیرآباد خواہی ہے, جیسے اس تصویر میں ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو ٹوکری دے رہا ہے.
Ihtiram-e-Insaniyat — The Dignity of Every Human Beingاحترامِ انسانیت — ہر انسان کی عزت
🏷 Tags: ihtiram-e-insaniyat, Surah Bani Israil 70, ghair Muslim huqooq, Sunan Abi Dawud 3052, Sahih Bukhari 3166, Hazrat Abu Bakr, Hazrat Umar, Imam Hasan, Imam Husain
ENGLISH

The foundation: Respect for humanity means honouring every human being simply because he or she is human. Allah says, "And indeed We have honoured the children of Adam" (Surah Bani Israil: 70). That honour is not given to Muslims only — the Qur'an addresses all of humanity, and good conduct towards all people is itself respect for humanity.

Non-Muslims' rights: The Prophet ﷺ warned that whoever wrongs a non-Muslim citizen, or takes even a small thing from him unjustly, will face him ﷺ as his opponent on the Day of Judgement (Sunan Abi Dawud: 3052). And: "Whoever kills a protected non-Muslim will not even smell the fragrance of Paradise" (Sahih Bukhari: 3166).

Examples from history: (1) After becoming Caliph, Hazrat Abu Bakr (RA) kept serving an old woman — he would milk her goats, and when she asked who would do it now, he promised to do it himself. (2) Hazrat Umar (RA) saw an old non-Muslim begging and said, in effect, that if even a goat died by the Euphrates, he would be questioned about it on the Day of Judgement — that is how far a ruler's responsibility reaches. (3) Hazrat Hasan and Husain (RA) shared their food with the poor and the hungry, and even invited poor people to eat with them and honoured them.

The point for you: respect is not shown by big speeches. It is shown when the strong protect the weak, the ruler answers for the poor, and nobody's honour is treated as cheap.

اردو

احترامِ انسانیت کا مطلب ہے کہ ہر انسان کی عزت کی جائے صرف اس لیے کہ وہ انسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور یقیناً ہم نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو عزت بخشی۔‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل: 70)۔ یہ عزت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں — قرآن مجید کی خطاب ساری انسانیت سے ہے، اور تمام انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہی احترامِ انسانیت ہے۔

غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت بھی اسی احترام کا حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اسلامی ریاست میں رہنے والے کسی غیر مسلم پر ظلم کیا، یا اس کی کوئی چیز ناجائز طریقے سے لی، تو قیامت کے دن اس مسلمان کے خلاف غیر مسلم کے حق میں آپ ﷺ خود وکیل ہوں گے (سنن ابی داؤد: 3052)۔ اور یہ بھی ارشاد ہوا کہ جس نے کسی ذمی (معاہدے کے تحت رہنے والے غیر مسلم) کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا (صحیح بخاری: 3166)۔

تاریخ کی مثالیں اس بات کو زندہ کر دیتی ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منصبِ خلافت کے لیے ان کا انتخاب ہوا تو ایک بوڑھی عورت کی بکریاں دودھنے کا کام نہ چھوڑا۔ اس بوڑھی عورت نے پوچھا: اب ہماری بکریاں کون دوہے گا؟ آپ نے فرمایا: میں دوہوں گا، اور مجھے امید ہے کہ خلافت کی ذمہ داری مجھے مخلوق کی خدمت سے نہیں روکے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بوڑھے غیر مسلم کو بھیک مانگتے دیکھا تو فرمایا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی بکری بھی مر گئی تو قیامت کے دن اس کے بارے میں مجھ سے سوال کیا جائے گا۔ یعنی حکمران کی ذمہ داری اتنی وسیع ہے کہ ایک جانور کی ہلاکت کا بھی حساب ہو گا۔ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں معمول کی بات تھی کہ وہ کھانا کھاتے ہوئے کسی فقیر اور مسکین کو دیکھتے تو اسے اپنے ساتھ کھانے میں شریک کر لیتے، اور ایک مرتبہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے کچھ فقیر اور غریب لوگوں کو دعوت دی، ان کی حوصلہ افزائی اور اظہارِ محبت کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے اور وہیں کھانا تناول فرمایا۔

خلاصہ یہ ہے کہ احترامِ انسانیت تقریروں سے نہیں، عمل سے ثابت ہوتا ہے: طاقت ور کمزور کی حفاظت کرے، حکمران غریب کا جواب دہ ہو، اور کسی کی عزت سستی نہ سمجھی جائے۔

Diagram: every human being deserves honour
Is diagram se samjho: بیچ میں انسان ہے اور اس کے گرد تین دائرے ہیں — عزت, حقوق اور حفاظت — جو ہر انسان کو صرف انسان ہونے کی وجہ سے ملتے ہیں, چاہے وہ کسی بھی مذہب یا قوم کا ہو.
Forms of Degrading Humanity — and the Fruits of Goodnessتحقیرِ انسانیت کی صورتیں اور خیر خواہی کے فوائد
🏷 Tags: tahqeer, mazaq urana, ghibat, bura naam, social media, fawaid, bhai chara, bardasht, aman
ENGLISH

What counts as degrading a human being? It is not only physical harm. Mocking someone, calling them by insulting nicknames, backbiting, taunting them about their appearance, wealth, colour or family, or humiliating them in front of others — all of this is tahqeer-e-insaniyat, and it is against the honour Allah gave to human beings. The book is blunt about today: much of this mockery now happens on social media, where people make fun of others and share their pictures or secrets just for laughs or likes.

What goodness brings: when a society adopts khair khwahi and respect, six fruits follow — (1) brotherhood and love grow, (2) tolerance grows in society, which is a great blessing for a tolerant society, (3) people get their rights and a healthy social atmosphere is created, (4) fights, quarrels and disputes come to an end, (5) hatred ends and a spirit of cooperation with one another is born, and (6) in such a society, everyone's life, property and honour are protected by the fruits of khair khwahi and respect.

So the test is simple: if your words or your post make someone small in the eyes of others, that is tahqeer — even if you call it a joke.

اردو

تحقیرِ انسانیت صرف یہ نہیں کہ کسی کو جسمانی تکلیف دی جائے۔ دوسروں کو حقیر سمجھنا، ان کا مذاق اڑانا، انھیں برے ناموں سے پکارنا، ان کی غیبت کرنا، ان کی شکل و صورت، مال و دولت، رنگ و نسل یا خاندان کا مذاق اڑانا، اور انھیں دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنا — یہ سب تحقیرِ انسانیت کی مختلف صورتیں ہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ باتیں قابلِ قبول نہیں ہیں، اور جو لوگ دوسروں کی غیبت کرتے ہیں، وہ دراصل ان کی عزت پر حملہ کرتے ہیں۔ کسی انسان کی بیماری کا مذاق اڑانا بھی بہت بڑا گناہ ہے، اور اس کی تعلیم یہ ہے کہ مریض کی عیادت کی جائے اور اس کی خدمت کی جائے۔

آج کل لوگ تحقیر کے نام پر دوسروں کی تضحیک کرتے ہیں اور ان کا تماشا بنانے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر بھی کسی کی تضحیک کی جاتی ہے۔ ہر مسلمان کو دوسروں کے حقوق کی پاسداری اس طرح کرنی چاہیے جیسا کہ حسنِ انسانیت کی سیرتِ طیبہ سے ثابت ہے۔

اجتماعی خیر خواہی اور احترامِ انسانیت کی عادت اپنانے سے حاصل ہونے والے فوائد و ثمرات میں سے چند درج ذیل ہیں: بھائی چارے، محبت اور یک جہتی کو فروغ ملتا ہے؛ معاشرے میں برداشت پیدا ہوتی ہے جو کہ ایک برداشت رکھنے والے معاشرے کے لیے بہت بڑی نعمت ہے؛ لوگوں کو ان کے حقوق ملتے ہیں اور ایک صحت مند سماجی ماحول بہتر ہو جاتا ہے؛ لڑائی جھگڑوں اور مقدموں پر وقت اور پیسہ ضائع ہونے سے بچا جاتا ہے؛ نفرت کا خاتمہ ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے؛ معاشرے میں خیر خواہی اور احترام کے جذبات فروغ پانے سے ہر ایک کی جان، مال اور عزت و آبرو محفوظ ہو جاتی ہے۔

Diagram: six fruits of khair khwahi
Is diagram se samjho: خیرآباد خواہی ایک درخت کی طرح ہے — اس کے چھی پھل ہیں: بھائی چارہ, برداشت, حقوق, جھگڑوں کا خاتمہ, تعاون اور جان-مال-عزت کی حفاظت.
Taassub — Blind Loyalty to Your Own Groupتعصب — اپنے گروہ کی اندھی حمایت
🏷 Tags: taassub, Surah Al-Hujurat 13, Khutba Hijjatul Wada, Sunan Abi Dawud 5121, ittehad, musawat
ENGLISH

What it is: Taassub is the blind, one-sided support of your own group, tribe, sect, province or party — right or wrong — and looking down on everyone else. Islam rejects it completely, because Islam made Muslims one Ummah, one community, and taught brotherhood and equality in its place.

The Qur'an's answer: "O people! We created you from a male and a female, and made you into nations and tribes so that you may know one another. Indeed the most honoured of you before Allah is the most God-fearing of you" (Surah Al-Hujurat: 13). Notice the wisdom: nations and tribes exist so that people can recognise one another — not so that one can boast over another. The measure of honour is taqwa, not birth, colour or language.

The Farewell Sermon: In the Khutbat Hijjatul Wada, the Prophet ﷺ declared that all human beings are the children of Adam, and Adam was created from dust — so no Arab has superiority over a non-Arab, and no non-Arab over an Arab, except by taqwa and good deeds.

The warning: "Whoever calls towards taassub is not from us; whoever fights for taassub is not from us; and whoever dies upon taassub is not from us" (Sunan Abi Dawud: 5121). Taassub destroys unity, ends brotherhood, and opens the door to quarrels, enmity, killing and bloodshed. The book applies this directly to Pakistan: provincial and linguistic taassub must be set aside so the country can move forward.

اردو

تعصب سے مراد اپنے گروہ یا جماعت کی بے جا طرف داری کرنا ہے — حق و باطل اور صحیح و غلط کے درمیان فرق کیے بغیر اپنے گروہ کی حمایت کرنا۔ جماعت، قبیلہ یا عزیز و اقارب کا ساتھ دینا تعصب کہلاتا ہے۔ اسلام نے تعصب کے برعکس مسلمانوں کو ایک امت بنایا ہے اور اتحاد و اتفاق کی تعلیم دی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا فرمایا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 13)۔ یہ آیت تعصب کی جڑ کاٹ دیتی ہے: قومیں اور قبیلے پہچان کے لیے بنائے گئے ہیں، فخر اور برتری کے لیے نہیں۔ اور اسی آیت میں معیار بھی بتا دیا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے برابری، مساوات اور بھائی چارے کی یقین دہانی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے۔ تم میں سے کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ اور پرہیزگاری کے۔‘‘ یعنی نہ عربی کو عجمی پر فضیلت ہے، نہ گورے کو کالے پر — صرف تقویٰ معیار ہے۔

تعصب کی مذمت کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو تعصب کی طرف بلائے، وہ شخص ہم میں سے نہیں جو تعصب کی بنا پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص ہم میں سے نہیں جو تعصب پر مرے۔‘‘ (سنن ابی داؤد: 5121)۔ تعصب سے معاشرے میں تفرقہ بازی پیدا ہوتی ہے، اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کا خاتمہ ہو جاتا ہے، قتل و غارت اور خون خرابہ ہوتا ہے اور معاشرہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں صوبائی اور لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Diagram: taassub divides, ittehad unites
Is diagram se samjho: ایک طرف تعصب لوگوں کو الگ الگ خانوں میں بانٹ دیتا ہے, دوسری طرف اتحاد سب کو ایک دائرے میں جوڑتا ہے — Islam نے دوسرا راستہ چنا ہے.
Khud Pasandi — Loving Only Yourselfخود پسندی — صرف اپنی ذات سے محبت
🏷 Tags: khud pasandi, Surah Aal-e-Imran 188, takabbur, tawazo, shukr
ENGLISH

What it is: Khud pasandi is a deadly disease of character: a person loves only himself, thinks of himself as better than everyone else, and wants praise, respect and honour for himself alone. Such a person likes his own opinion best, counts others as small, and wishes that every good thing come to him only.

Why it is dangerous: It breeds pride and arrogance, and it pushes a person into showing off (riya), hypocrisy and self-admiration. The Qur'an condemns those who "love to be praised for what they have not done — so never think they will escape the punishment" (Surah Aal-e-Imran: 188). In plain words: wanting applause for work you never did is itself a punishable attitude.

The cure: The Prophet ﷺ always disliked khud pasandi and taught humility instead — always thanking Allah, and attributing every success to Allah rather than to oneself. The opposite of khud pasandi is not self-hatred; it is tawazo (humility): knowing your worth without needing to crush others to prove it.

اردو

خود پسندی ایک مہلک بیماری ہے جو انسان کے اخلاق کو بگاڑ دیتی ہے۔ خود پسندی میں مبتلا شخص صرف اپنی ذات کو پسند کرتا ہے، اپنی سوچ، فکر اور رائے کو دوسروں پر ترجیح دیتا ہے، اپنے آپ کو سب سے بہتر اور اعلیٰ و افضل سمجھتا ہے، یہ چاہتا ہے کہ اس کی ہر جگہ تعریف کی جائے، اس کو عزت دی جائے اور اس کا ادب و احترام کیا جائے۔ خود پسندی کی وجہ سے انسان ذاتی مفاد، ریاکاری اور تکبر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

قرآن مجید میں خود پسندوں کی مذمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی (ایسے کاموں پر بھی) تعریف کی جائے جو انھوں نے کیے ہی نہیں تو آپ ہرگز نہ سمجھیں کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 188)۔ یعنی جو شخص وہ داد چاہے جو اس کا حق ہی نہیں، وہ اپنے لیے عذاب کا سامان کر رہا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ میں خود پسندی کو ہمیشہ ناپسند فرمایا گیا ہے۔ آپ ﷺ عاجزی اور انکساری اختیار کرتے اور ہر خوبی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہتے۔ علاج یہی ہے: اپنی خوبیوں کو اللہ کی نعمت سمجھو، اپنی خامیوں کو پہچانو، اور دوسروں کی خوبیوں کو بھی دل سے تسلیم کرو۔

Diagram: khud pasandi versus humility
Is diagram se samjho: خود پسند شخص آئینے میں صرف اپنی تعریف ڈھونڈتا ہے, جبکہ ba-اخلاق شخص اپنی کمزوری بھی دیکھتا ہے اور دوسروں کی خوبی بھی مانتا ہے — فرق صرف نظر کا ہے.
Ghuss Goi — Backbiting Behind Someone's Backغص گوئی — پیٹھ پیچھے برائی
🏷 Tags: ghuss goi, ghibat, Surah Al-Anam 151, Sahih Bukhari 10, zaban ki hifazat
ENGLISH

What it is: Ghuss goi means speaking ill of someone behind their back — saying about a person, in their absence, what would hurt them if they heard it. It is a sin of the tongue, and it is also a moral crime, because it damages a person's honour without giving them a chance to defend themselves.

The rule of the tongue: The Prophet ﷺ said: "A (true) Muslim is one from whose tongue and hand other Muslims are safe" (Sahih Bukhari: 10). Think about that test: if people are not safe from your tongue, then by this definition your Islam itself is incomplete in that respect.

The Qur'anic boundary: Islam forbids shameless and hurtful speech altogether: "And do not go near shameful deeds, whether open or hidden" (Surah Al-An'am: 151). That covers both public insults and the quiet, whispered kind that happens when the person is not in the room.

A practical check before you speak: (1) Is it true? (2) Is it necessary? (3) Would I say it to their face? If any answer is no, silence is better. The book puts it plainly: every word that becomes a cause of pain for a Muslim counts as ghuss goi — and that is why the exercise asks you to recognise it as such.

اردو

غص گوئی کا مطلب ہے کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا — یعنی وہ بات جو سن کر اسے تکلیف پہنچے، اس کی غیر موجودگی میں کہنا۔ یہ زبان کا گناہ ہے اور دنیوی و اخلاقی اعتبار سے بھی ایک بڑا جرم ہے، کیونکہ اس سے دوسرے کی عزت مجروح ہوتی ہے اور اسے اپنی صفائی کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اسلام میں کسی کو برا بھلا کہنے، طعنہ دینے اور تکلیف پہنچانے سے منع کیا گیا ہے۔

اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہو۔‘‘ (صحیح بخاری: 10)۔ یہ ایک کسوٹی ہے: اگر لوگ آپ کی زبان سے محفوظ نہیں تو اس کسوٹی پر آپ کا مسلمان ہونا ہی ادھورا ہے۔

اسلام میں بد زبانی اور فحش گوئی سے بھی منع کیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور بے حیائی کی باتوں کے قریب مت جاؤ، جو ان میں سے ظاہر ہوں اور جو پوشیدہ ہوں۔‘‘ (سورۃ الأنعام: 151)۔ یعنی کھلی گالی ہو یا چھپی ہوئی چغلی، دونوں سے بچنا ہے۔

بولنے سے پہلے تین سوال خود سے پوچھ لو: کیا یہ بات سچ ہے؟ کیا اس کا کہنا ضروری ہے؟ کیا میں یہ بات اس کے منہ پر کہہ سکتا ہوں؟ اگر کسی ایک کا جواب بھی ’’نہیں‘‘ ہو تو خاموشی بہتر ہے۔ یاد رکھو: ہر وہ بات جو کسی مسلمان کی تکلیف کا باعث بنے، غص گوئی کی مثال ہے۔

Diagram: three checks before speaking
Is diagram se samjho: زبان کھولنے سے پہلے تین سوال — کیا یہ سچ ہے, کیا ضروری ہے, کیا میں یہ اس کے منہ پر کہہ سکتا ہوں — اگر کوئی جواب 'نہیں' ہے تو خاموشی بہتر ہے.
Nashiyat Ka Istemal — Drugs Destroy Mind, Health and Homeمنشیات کا استعمال — عقل، صحت اور گھر کی بربادی
🏷 Tags: nashiyat, sharab, Surah Al-Maidah 90, Sahih Muslim 2003, nojawan, sehat
ENGLISH

Why drugs are a moral evil, not just a medical problem: Intoxicants destroy the very thing Allah gave humans to tell right from wrong — the intellect. Allah gave humans the ability to think, understand and distinguish good from bad; drugs switch that light off. That is why Islam declared every intoxicant unlawful, and why the book calls drug abuse a moral evil with individual and collective ruin following it.

The Qur'an's verdict: "O you who believe! Indeed intoxicants and gambling and idols and fortune-arrows are filth, the work of Satan, so avoid them so that you may succeed" (Surah Al-Ma'idah: 90). And the Prophet ﷺ closed every loophole: "Every intoxicant is wine, and every intoxicant is unlawful" (Sahih Muslim: 2003) — so no new name, no new form, changes the ruling.

The damage, step by step: (1) The mind stops working properly, so the person cannot judge what is right. (2) The body breaks down — the book names dangerous diseases and, in particular, the harm to young people's health. (3) The family breaks: money is wasted, trust is lost, and quarrels begin at home. (4) Society pays: crime rises and the whole community's peace is disturbed. That is why the book insists that young people, especially, must be kept away from drugs — a single experiment can become a chain that is hard to break.

اردو

منشیات سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو نشہ آور ہوتی ہیں۔ نشہ انسان کے اعصاب کو مفلوج کر دیتا ہے اور حد درجہ اخلاقی رذائل کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سوچنے سمجھنے اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، لیکن نشہ انسان کی اس صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

اس لیے نشہ آور اشیا کی حرمت بیان کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! بے شک شراب اور جوا اور بت اور قسمت کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ (سورۃ المائدہ: 90)۔ نبی کریم ﷺ نے نشے کی ممانعت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 2003)۔ یعنی نام بدلنے سے حکم نہیں بدلتا — جو چیز نشہ دے، وہ حرام ہے۔

اسلام نے تمام نشہ آور اشیا کو حرام قرار دیا ہے۔ نشے کے استعمال سے جسمانی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اخلاقی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ اسی طرح تمباکو نوشی اور سگریٹ نوشی بھی صحت کے لیے مضر ہے۔ نشے کے استعمال سے نوجوان نسل میں نشے کا رجحان بڑھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو نشے سے بچایا جائے۔ نشے کا استعمال کثرت سے بڑھتا جاتا ہے اور یہ انسان کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ایک نشئی نہ صرف اپنی صحت برباد کرتا ہے بلکہ اپنے گھر کا سکون، اپنے خاندان کا اعتماد اور معاشرے کا امن بھی برباد کرتا ہے۔

Diagram: how drugs break mind, health and home
Is diagram se samjho: نشہ ایک زنجیر کی طرح ہے — پہلی kari عقل کو torti ہے, دوسری صحت کو, تیسری گھر کے سکون کو; زنجیر کو شروع میں ہی توڑنا آساں ہے, بعد میں مشکل.
Bad-Unwani Aur Rishwat Satani — Putting a Price on Rightsبدعنوانی اور رشوت ستانی — حق کی قیمت لگانا
🏷 Tags: bad-unwani, rishwat, Surah Al-Baqarah 188, Sunan Abi Dawud 3580, merit, corruption
ENGLISH

What corruption is: Bad-unwani means every act in which an office, a power or a public trust is used for private gain — taking what is not yours, giving what is not yours to give, or selling a decision that should be free and fair. Bribery is its most common face: a payment, a gift or a favour given to an officer or a person in authority so that he does a wrong thing, or delays a right thing.

The Qur'an forbids it: "And do not consume one another's wealth unjustly, nor deliver it to the rulers so that you may wrongfully consume a portion of people's wealth while you know" (Surah Al-Baqarah: 188). Notice how complete this is: neither eating others' wealth yourself, nor pushing it towards officials to get a crooked result.

The curse: The Prophet ﷺ cursed both the giver and the taker of bribes (Sunan Abi Dawud: 3580). Both — because a bribe needs two hands. The book adds a practical warning: when officers and people in authority start accepting bribes, it becomes a habit, and then even lawful work stops moving without payment.

Who pays the price? Ordinary people. Bribery takes away others' rights: the deserving person loses the job, the seat or the decision, while the undeserving person buys it. It spreads injustice, widens the gap between rich and poor, and rots the whole society from inside. That is also why the Prophet ﷺ and the Rightly Guided Caliphs always gave responsibility to the person who deserved it — merit, not money or connection, decided appointments.

اردو

بدعنوانی کے مفہوم میں ہر وہ عمل شامل ہے جس میں کسی طرح کی حق تلفی کی جاتی ہے، یعنی کسی کا حق مارا جاتا ہے۔ رشوت بدعنوانی کی ایک قسم ہے کہ جس میں کسی صاحبِ اختیار کو اس کے کام کے بدلے ناجائز طریقے سے رقم، تحفہ یا فائدہ دیا جاتا ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ مختلف سرکاری یا غیر سرکاری معاملات میں کسی جگہ ناجائز مفاد حاصل کرنے کے لیے رشوت دی جاتی ہے اور اس سے حق دار کی حق تلفی ہوتی ہے۔ رشوت ستانی اور بدعنوانی سے لوگوں میں مایوسی، بے اعتمادی اور احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے اور معاشرے کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔

قرآن مجید میں رشوت ستانی کو حرام قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ اور (اسے) حکام تک نہ پہنچاؤ تاکہ تم جانتے بوجھتے لوگوں کے مال کا کچھ حصہ غلط طریقے سے کھا جاؤ۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 188)۔ یعنی نہ خود کسی کا مال غلط طریقے سے کھاؤ، نہ حکام تک رشوت پہنچا کر غلط فیصلہ خریدو۔

نبی کریم ﷺ نے رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے (سنن ابی داؤد: 3580)۔ جب سرکاری ملازمین یا صاحبِ اختیار لوگ رشوت کا مال قبول کرنے لگتے ہیں تو پھر ان کے لیے یہ ایک عادت بن جاتی ہے اور اس سے کوئی کام بغیر رشوت کے نہیں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ کسی شخص کو کوئی بھی ذمہ داری یا عہدہ عطا کیا جو اس کا اہل ہوتا، اور خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی اسی اصول کو پیشِ نظر رکھا گیا — یعنی میرٹ پر فیصلہ ہوتا تھا، سفارش یا رشوت پر نہیں۔

رشوت کی قیمت عام آدمی ادا کرتا ہے: حق دار محروم رہ جاتا ہے، نااہل آگے بڑھ جاتا ہے، ظلم اور ناانصافی پھیلتی ہے، اور معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اس لیے بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان سے نفرت کریں اور ان کے خلاف آواز بلند کریں۔

Golden scales of justice over an open book
Is tasveer se samjho: ترازو سیدھا تب ہی رہتا ہے جب اس پر کسی کا ہاتھ نہ ہو — رشوت ترازو کو جھکا دیتی ہے, اور جھکا ہوا ترازو انصاف نہیں, ظلم ہے.
Muashrati Taluqat Ki Bunyad — Living Together, Wellمعاشرتی تعلقات کی بنیاد — مل جل کر اچھی زندگی
🏷 Tags: muashrati taluqat, khandan, hamsaya, salam, huqooq, rishta dari
ENGLISH

What are social relations? When people of a society live together, mix with one another and deal with one another, those dealings are called muashrati taluqat. A human being cannot live a complete life alone: Allah created humans as social beings, so we need one another at every step — in the family, in the neighbourhood, at work and in the whole society.

Why Islam cares so much: Islam is itself a social religion. Its foundations for relations are brotherhood, love, sacrifice, good manners and fulfilling one another's rights. The Prophet ﷺ made salam common, called one Muslim the brother of another, and fixed the rights of Muslims upon one another. These fixed rights are the pillars on which strong, healthy social relations stand — and the family is their first school and their basic unit.

The guiding rule: In all relations, keep the rights of others in front of you, not only your own demands. Deal with others the way you would like to be dealt with, and remember that every relation — with parents, family, neighbours, friends, colleagues and even strangers — has its own manners, and Islam has taught the manners of each.

اردو

معاشرت کے معنی مل جل کر زندگی بسر کرنے کے ہیں۔ جب معاشرے کے مختلف افراد کے باہمی روابط، میل جول اور لین دین کو کہا جاتا ہے تو اسے معاشرتی تعلقات کہتے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں انسان کا واسطہ مختلف افراد سے پڑتا ہے، ان سب سے بہتر برتاؤ کرنا، ان کے حقوق و فرائض ادا کرنا اور اچھے رویے کا اظہار کرنا اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ انسانی زندگی میں معاشرتی تعلقات انسان کی فطری ضرورت ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو معاشرت پسند بنایا ہے۔ ایک انسان کے لیے تنہا زندگی گزارنا ناممکن ہے۔ معاشرے میں مختلف افراد کے ساتھ میل جول اور معاشرتی تعلقات کا ایک کامیاب معاشرتی زندگی کی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ مختلف افراد کے ساتھ میل جول اور معاشرتی تعلقات کی انسان کی مشکلات حل کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے علم و شعور میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جس سے معاشرے میں باہمی تعاون کو فروغ ملتا ہے اور ایک مضبوط معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

اسلام محبت، بھائی چارے، ہمدردی اور ایثار کو فروغ دینے والا دین ہے اور یہ تمام اعمال معاشرتی تعلقات کی بنیاد ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان جذبات کو فروغ دیا اور ان پر اجر و ثواب کی نوید سنائی ہے۔ آپ ﷺ نے سلام کو عام کرنے، تعلقات میں پہل کرنے، تنگ دستی اور تکلیف میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دے کر ان کے باہمی تعلق کی مضبوطی پر زور دیا۔ مسلمانوں کے باہمی حقوق مقرر کر کے ان کی تلقین فرمائی۔ یہ تمام معاشرتی اقدامات تعلقات کی مضبوطی اور وسعت کی بنیادیں ہیں۔ اسلام نے ان اقدامات پر اجر و ثواب مقرر کر کے بہترین معاشرت کی بنیاد رکھی ہے۔ معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ہے اور بہترین تعلقات کی بنیادی تعلیمات خاندان سے ہی شروع ہوتی ہیں۔ احادیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق جو کوئی رشتہ داری کو جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے جڑتا ہے، اور جو توڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لیتا ہے — اس لیے رشتے جوڑنا عبادت ہے، توڑنا گناہ ہے۔

Diagram: family, neighbours and society as widening circles
Is diagram se samjho: تعلقات تین دائرے ہیں — سب سے چھوٹا خاندان, اس سے بڑا ہمسائے, سب سے بڑا پورا معاشرہ — اور ہر دائرے کے اپنے حقوق اور آداب ہیں.
سیرت کی روشنی میں معاشرتی تعلقات — نبی کریم ﷺ لوگوں سے کیسے ملتے تھے
🏷 Tags: Seerat, hamsaya huqooq, Sahih Bukhari 6016, Jami Tirmidhi 2490, Habsha safeer, yahoodi hamsaya, Madinah
ENGLISH

Neighbours first: The Prophet ﷺ swore three times: "By Allah! He is not a believer, he is not a believer, he is not a believer — the one from whose harm his neighbour is not safe" (Sahih Bukhari: 6016). That is how seriously Islam takes the neighbour: your faith itself is questioned if your neighbour lives in fear of you.

Madinah as a model: In Madinah, the Prophet ﷺ kept relations with every class of society. He visited the sick, attended funerals, and kept the rights of neighbours in view. His relations were not limited to Muslims: he kept good relations with non-Muslims too. When a Jewish neighbour fell ill, he ﷺ visited him; and when a person who used to sweep the mosque passed away without his ﷺ knowledge, he ﷺ went to the grave and prayed there — because even the humblest person's absence was noticed.

Guests and delegations: When a delegation came from Habsha (Abyssinia), the Prophet ﷺ served them himself, saying that they had honoured his Companions — the host serving the guest with his own hands. And the people of the villages who came to him ﷺ returned with gifts and goodwill.

His manner of meeting: He ﷺ made salam common, and when he shook someone's hand, he would not withdraw his hand until the other person withdrew theirs, nor turn his face away until the other turned away (Jami' Tirmidhi: 2490). Small manners — but they are exactly what make people feel respected.

اردو

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کی قسم! وہ ایمان والا نہیں، وہ ایمان والا نہیں، وہ ایمان والا نہیں، جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔‘‘ (صحیح بخاری: 6016)۔ یعنی ہمسائے کا امن آپ کے ایمان کی کسوٹی ہے — اگر آپ کا پڑوسی آپ سے ڈرتا ہے تو آپ کا ایمان ہی مشکوک ہے۔

نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کے مکین ہونے کے باوجود تمام شہریوں سے اور معاشرے کے تمام طبقات سے مثالی معاشرتی تعلقات رکھے۔ آپ ﷺ محلے داروں کے حقوق اور مراعات کی ضروریات کا خیال رکھتے، بیماروں کی عیادت فرماتے اور جنازوں میں شرکت فرماتے۔ آپ ﷺ کے تعلقات صرف مسلمانوں سے اچھے نہ تھے بلکہ غیر مسلموں سے بھی اچھے تعلقات تھے۔ آپ ﷺ کے ایک یہودی پڑوسی کی آپ ﷺ نے بیمار پرسی کی، اور مسجد کی صفائی کرنے والے ایک شخص کا جب انتقال ہوا اور آپ ﷺ کو اطلاع نہ ملی تو آپ ﷺ نے اس کی قبر پر جا کر نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔ یعنی ایک عام سے خاکروب کی موت بھی آپ ﷺ کی نظر سے اوجھل نہ رہی۔

دیہاتوں سے آنے والے سفیر بھی آپ ﷺ کی مہمان نوازی سے فیض یاب ہوتے تھے۔ حبشہ سے آنے والے سفیر کی خدمت آپ ﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے کی، کیونکہ انھوں نے آپ ﷺ کے صحابہ کی خدمت کی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے غیر مسلموں کی خدمت اور مہمان نوازی کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ وہ آپ ﷺ کے گرویدہ ہو گئے۔

آپ ﷺ نے سلام کو عام کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ آپ ﷺ جب کسی سے مصافحہ فرماتے تو اس وقت تک اپنا ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک سامنے والا خود نہ چھوڑتا، اور اس وقت تک اس سے چہرہ نہ پھیرتے جب تک وہ چہرہ نہ پھیرتا (جامع ترمذی: 2490)۔ یہ چھوٹے چھوٹے آداب ہی ہیں جو دوسرے کو عزت کا احساس دلاتے ہیں، اور یہی نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں معاشرتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Houses joined by lines of light around a mosque
Is tasveer se samjho: مسجد کے گرد گھر روشنی کی لکیروں سے jure ہیں — اچھے تعلقات بھی ایسے ہی ہوتے ہیں, نظر نہیں آتے لیکن سب کو جور کر رکھتے ہیں.
Harmful Acts — and the Manners of Social Mediaنقصان دہ اعمال اور سوشل میڈیا کے آداب
🏷 Tags: qata taalluq, Sahih Bukhari 5984, Jami Tirmidhi 1315, jhoot, hasad, bohtan, takabbur, social media, privacy
ENGLISH

Acts that break relations: The Prophet ﷺ forbade the acts that cut social ties. "Whoever deceives is not from us" (Jami' Tirmidhi: 1315) — cheating in trade, in exams or in promises counts as deceit. And: "The one who breaks ties will not enter Paradise" (Sahih Bukhari: 5984). Add to these: lies, jealousy, false accusations, pride and contempt for others — each one is a knife that cuts a relation. That is why the exercise asks: considering others low is a sign of takabbur (pride), not of anything else.

Social media — the new neighbourhood: Today, social relations have taken a new form: social media. It can be a blessing — we can reach the whole world in seconds, share knowledge, and serve the nation. But it has its own manners, and the book lists them plainly: (1) Do not share anyone's personal life or secrets. (2) Do not post anyone's picture without their permission. (3) Do not spread rumours or unverified news. (4) Do not use it to mock, abuse or defame anyone. (5) Do not waste time in useless groups and chats. (6) Use it for good purposes — learning, teaching, helping — so that it becomes a source of reward, not of sin.

The golden rule for every platform: write online only what you would be happy to say in front of the person — and in front of Allah.

اردو

نبی کریم ﷺ نے معاشرتی تعلقات کو نقصان پہنچانے والے اعمال سے منع فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ آپ ﷺ نے جھوٹ، حسد، بہتان، غرور اور تکبر سے بھی منع فرمایا ہے: ’’جس نے دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ (جامع ترمذی: 1315)۔ اور قطع تعلقی سے مسلمانوں کو باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’تعلق توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری: 5984)۔ آپ ﷺ نے خیر خواہی، ہمدردی، اخلاص، بھلائی اور ایمانداری کو فروغ دینے کی تلقین فرمائی ہے۔

موجودہ دور میں معاشرتی تعلقات کے بہت سے نئے پہلو اور صورتیں سامنے آئی ہیں، بالخصوص سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع و سائل۔ ہمیں اس حوالے سے بھی اسلامی اخلاقی تعلیمات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے: کسی کی نجی زندگی میں دخل اندازی نہ کرنا، کسی کی عزت پر حملہ نہ کرنا، کسی کی جھوٹی خبر نہ پھیلانا، کسی کی اجازت کے بغیر اس کی تصاویر شیئر نہ کرنا، لوگوں کے درمیان برائیوں کی تشہیر نہ کرنا، اور معاشرتی تعلقات کو خراب کرنے والے افعال سے گریز کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی اور غیر شرعی مواد سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ سوشل میڈیا پر گناہ اور غلط کاموں کی تشہیر بھی گناہ ہے۔ ایسے گروپوں میں شمولیت اختیار کرنا بھی مذموم فعل ہے جو غیر اخلاقی سرگرمیوں کو فروغ دینے والے ہوں۔ ایسے گروپوں میں شمولیت غفلت اور وقت کے ضیاع کا باعث بنتی ہے اور اس کا نتیجہ فکری انحراف اور اخلاقی پستی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک مسلمان کو صرف ایسے افعال سے باز رہنا چاہیے، بلکہ اسے سوشل میڈیا کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو یقینی بنانا چاہیے: سوشل میڈیا کے ذریعے ہم پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں، اپنی آواز اور نظریات کو پھیلا سکتے ہیں، علم و تحقیق کی خدمت کر سکتے ہیں، اور جدید ترین علوم، سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم محبت کی گرمجوشی کو فروغ دے سکتے ہیں اور یہ چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں خیر اور بھلائی کا فروغ ممکن ہو۔

Diagram: do and don't rules for social media
Is diagram se samjho: phone کے ایک طرف 'کرو' ہے — سیکھو, sikhao, مدد کرو — اور دوسری طرف 'نہ کرو' ہے — afwah, تصویر بغیر اجازت, مذاق; جو انگلی post پر جاتی ہے, وہ ذمہ داری بھی اٹھاتی ہے.
📝 Official Exercise Questions — with Answers📝 کتابی مشق کے سوالات — جوابات کے ساتھ
ENGLISH

The book's exercise for this chapter (printed pp. 74–75, 79–80, 83–84) is in three parts, one after each section. Part (الف): Q1 — 5 MCQs; Q2 — 5 short answers; Q3 — 1 detailed answer. Part (ب): Q1 — 5 MCQs; Q2 — 5 short answers; Q3 — notes on 4 topics. Part (ج): Q1 — 5 MCQs; Q2 — 5 short answers; Q3 — 1 detailed note. Total: 15 MCQs + 15 short + 6 long/note answers = 36 blocks. Short اور detailed جواب کتاب کے متن سے تیار کیے گئے ہیں; جہاں کتاب میں سیدھا جواب نہیں ملتا, وہاں جواب کے شروع میں (Derived answer) لکھا گیا ہے — یعنی جواب chapter کی تعلیم سے نکالا گیا ہے, کتاب کا لفظی اقتباس نہیں. Class activities (p. 75, p. 80, p. 84) امتحان کے سوال نہیں, اس لیے ان کا خلاصہ exercise کے آخر میں الگ box میں دیا گیا ہے.

Part (الف) — Ijtimai Khair Khwahi Aur Ihtiram-e-Insaniyat (pp. 74–75)

سوال 1: درست جواب کا انتخاب کریں (MCQs)

1(i). حدیث مبارک کی روشنی میں دین نام ہے:

Answer / جواب

(ب) خیرآباد خواہی کا — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "Ad-Deen an-Nasihah" یعنی دین خیرآباد خواہی کا نام ہے (Sahih Muslim: 55).

1(ii). سورۂ An-نمل میں چیونٹیوں کے جذبے کو بیان کیا گیا ہے:

Answer / جواب

(ج) خیرآباد خواہی — چیونٹی نے اپنی ساتھیوں کو خطرے سے خبردار کیا; دوسروں کی فکر اور بھلائی چاہنا ہی خیرآباد خواہی ہے (Surah An-Naml: 18).

1(iii). Sare انسانوں کی عزت کو کیا کہلاتا ہے:

Answer / جواب

(الف) احترامِ انسانیت — ہر انسان کی عزت صرف اس لیے کے وہ انسان ہے (Surah Bani Israil: 70).

1(iv). Nabi Kareem ﷺ us musalman ke khilaf qayamat ke din ghair muslim ke wakeel banenge:

Answer / جواب

(الف) جس نے غیر muslim پر ظلم کیا — جو شخص اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر muslim پر ظلم کرے یا اس کی چیز ناجائز لے, اس کے خلاف نبی کریم ﷺ قیامت کے دن غیر muslim کے حق میں وکیل ہوں گے (Sunan Abi Dawud: 3052).

1(v). اجتماعی خیرآباد خواہی سے معاشرے میں فروغ ملتا ہے:

Answer / جواب

(الف) بھائی چھیڑی کو — خیرآباد خواہی کی عادت سے بھائی چارہ, محبت اور yak-جہتی کو فروغ ملتا ہے; یہ اس chapter کے فوائد میں پہلا فائدہ ہے.

سوال 2: مختصر جواب دیں (Short answers)

2(i). اجتماعی خیرآباد خواہی کا مفہوم تحریر کریں.

اجتماعی خیرآباد خواہی کا مطلب ہے کہ پورا معاشرہ مل کر ایک دوسرے کی بھلائی چاہے. خیرآباد خواہی یہ ہے کہ انسان صرف اپنی ذات یا اپنے گروہ کی بھلائی نہ چاہے, بلکہ اللہ کی تمام مخلوق کے لیے دل میں بھلائی کا جذبہ رکہے. جب یہ جذبہ انفرادی سے بڑھ کر اجتماعی ہو جائے — یعنی log ایک دوسرے کے کام آئیں, حقوق کا خیال رکھیں اور مصیبت میں ساتھ دیں — تو use اجتماعی خیرآباد خواہی کہتے ہیں. اس کی مثال انبیا کی سیرت ہے اور چیونٹی کا اپنی ساتھیوں کو خبردار کرنا ہے.

2(ii). احترامِ انسانیت کا مفہوم بیان کریں.

احترامِ انسانیت کا مطلب ہے ہر انسان کی عزت کرنا صرف اس وجہ سے کے وہ انسان ہے. اللہ تا'ala نے فرمایا کے اس نے اولاد-e-Adam کو عزت بخشی (Surah Bani Israil: 70). اس کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کی ذات, رنگ, نسل, مذہب یا دولت کی وجہ سے اس کی توہین نہ کی جائے, اس کے حقوق ادا کیے جائیں, اور کمزور کی حفاظت کی جائے. غیر muslim شہریوں کے حقوق کی حفاظت بھی اسی احترام کا حصہ ہے.

2(iii). حضرت ابو بکر (RA) کی زندگی سے اجتماعی خیرآباد خواہی کی ایک مثال تحریر کریں.

حضرت ابو بکر Siddiq (RA) جب Khalifa بنے تو انہوں نے ایک بوڑھی عورت کی خدمت نہ chhori — وہ اس کی بکریاں dohte تھے. جب اس عورت نے پوچھا کے اب ہماری بکریاں کون dohe گا, تو آپ نے فرمایا کے میں خود dohoon گا, اور مجھے امید ہے کہ خلافت کی ذمہ داری مجھے مخلوق کی خدمت سے نہیں روکے گی. یہ مثال بتاتی ہے کہ بڑا uhda بھی چھوٹی خدمت سے نہیں روکتا; اصل خیرآباد خواہی uhde سے نہیں, دل سے ہوتی ہے.

2(iv). تحقیرِ انسانیت کی مروجہ صورتیں میں سے دو صورتیں تحریر کریں.

(1) دوسروں کا مذاق اڑانا اور انھیں برے ناموں سے پکارنا. (2) کسی کی غیبت کرنا یا اس کی شکل, رنگ, دولت یا خاندان کا تانا دینا. ان کے علاوہ آج کل social media پر کسی کی تضحیک کرنا, اس کی تصویر یا راز پھیلانا بھی تحقیر کی ایک عام صورت بن گئی ہے. یہ سب اللہ کی دی ہوئی انسانی عزت کے خلاف ہے.

2(v). اجتماعی خیرآباد خواہی اور احترامِ انسانیت کے دو فوائد تحریر کریں.

(1) بھائی چارہ اور محبت کو فروغ ملتا ہے — log ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں. (2) معاشرے میں برداشت پیداکرنے ہوتی ہے اور لڑائی-جھگڑوں اور مقدموں پر وقت اور پیسہ ضائع ہونے سے بچہ جاتا ہے. (مزید فوائد: لوگوں کو ان کے حقوق ملتے ہیں, نفرت کا خاتمہ ہوتا ہے, تعاون کا جذبہ پیداکرنے ہوتا ہے, اور ہر شخص کی جان, مال اور عزت محفوظ ہو جاتی ہے.)

سوال 3: تفصیلی جواب دیں (Detailed answer)

3. اجتماعی خیرآباد خواہی اور احترامِ انسانیت معاشرتی فلاح o بہبود کی zaman ہیں, وضاحت کریں.

معاشرتی فلاح کا مطلب ہے کہ معاشرے کا ہر فرد امن, انصاف اور خوشحالی سے زندگی گزارے. یہ تب ہی ممکن ہے جب log ایک دوسرے کی بھلائی چاہیں (khair khwahi) اور ایک دوسرے کی عزت کریں (احترامِ انسانیت). خیرآباد خواہی سے لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں: بھوکے کو کھانا, بیمار کی عیادت, کمزور کی مدد — جیسے حضرت ابو بکر (RA) نے بوڑھی عورت کی خدمت کی اور حضرت Hasan-o-Husain (RA) نے فقیروں کو اپنے ساتھ کھانا کھلایا. احترام سے ہر شخص محفوظ ہوتا ہے: اس کی جان, مال اور عزت پر حملہ نہیں ہوتا, اور غیر muslim شہری بھی ظلم سے محفوظ رہتے ہیں, کیونکہ ان کے خلاف ظلم کرنے والے کے مقابلے میں نبی کریم ﷺ خود وکیل ہوں گے. جب یہ دونوں عادتیں عام ہو جائیں تو بھائی چارہ بڑھتا ہے, برداشت آتی ہے, حقوق ملتے ہیں, جھگڑے ختم ہوتے ہیں, تعاون پیداکرنے ہوتا ہے اور جان-مال-عزت محفوظ ہو جاتی ہے — اور یہی چیزیں مل کر معاشرتی فلاح o بہبود کی ضمانت بنتی ہیں.

Part (ب) — Akhlaqi Razail Se Ijtinab (pp. 79–80)

سوال 1: درست جواب کا انتخاب کریں (MCQs)

1(i). اپنے گروہ کی بے-جا حمایت کو کہلاتا ہے:

Answer / جواب

(الف) تعصب — اپنے گروہ کی حق و باطل دیکھے بغیر اندھی حمایت ہی تعصب ہے; Islam نے اس کی سخت مذمت کی ہے (Sunan Abi Dawud: 5121).

1(ii). انسانوں کو مختلف قبیلے اور قوموں میں تقسیم کرنے کی وجہ ہے:

Answer / جواب

(الف) لوگوں کی پہچان — "تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو" (Surah Al-Hujurat: 13); قومیں اور قبیلے پہچان کے لیے ہیں, فخر کے لیے نہیں.

1(iii). اللہ تا'ala کے ہاں عزت o شرف کے لیے kusootee قرار دیا گیا ہے:

Answer / جواب

(ب) تقوی کو — "اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ parhezgar ہے" (Surah Al-Hujurat: 13); خطبہ Hijjatul وعدہ میں بھی یہی معیار بتایا گیا.

1(iv). اپنی ذات کو پسند کرنا اور دوسروں پر ترجیح دینا کہلاتا ہے:

Answer / جواب

(ب) خود پسندی — صرف اپنی ذات سے محبت, خود کو سب سے بہتر سمجھنا اور ہر تعریف اپنے لیے چاہنا خود پسندی ہے.

1(v). ہر وہ بات جو کسی مسلمان کی تکلیف کا باعث بنے, مثال ہے:

Answer / جواب

(الف) ghuss گوئی میں — پیٹھ پیچھے ایسی بات کہنا جو سننے والے کو تکلیف دے, ghuss گوئی (ghibat) ہے; اس سے bachaane کے لیے ہی فرمایا گیا کے مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہو (Sahih Bukhari: 10).

سوال 2: مختصر جواب دیں (Short answers)

2(i). خود پسندی کی مذمت میں اللہ تا'ala کا ایک farman تحریر کریں.

"اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی (ایسے کاموں پر بھی) تعریف کی جائے جو انہوں نے کیے ہی نہیں, تو آپ ہرگز نہ سمجھیں کے وہ عذاب سے بچ جائیں گے" (سورۂ آلِ عمران: 188). یعنی جو شخص وہ داد چاہے جو اس کا حق ہی نہیں, اور اپنی تعریف کا بھوکا ہو, اس کی یہ خود پسندی اسے عذاب کے قریب کر دیتی ہے.

2(ii). موجودہ دور میں نشہ آور اشیا کی کوئی دو وجوہات تحریر کریں.

(Derived answer) — کتاب میں اس سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا گیا; جواب chapter کی گفتگو سے نکالا گیا ہے. (1) بری صحبت اور غلط دوستوں کا عصر: نوجوان اکثر دوستوں کی دیکھ-دیکھی یا دباؤ میں پہلی دفعہ نشہ aazmate ہیں. (2) بے-روزگاری, مایوسی اور فراغت: جب نوجوان کے پاس مقصد, کام یا رہنمائی نہ ہو تو وہ سکون کی تلاش میں نشے کی طرف مڑ جاتا ہے. (اس کے علاوہ media اور آسانی سے dastiyabi بھی اس رجحان کو بڑھاتی ہے; کتاب خاص طور پر نوجوان نسل کو نشے سے بچانے پر زور دیتی ہے.)

2(iii). تعصب کے کوئی سے دو معاشرتی نقصانات تحریر کریں.

(1) اتحاد اور بھائی چھیڑی کا خاتمہ: تعصب معاشرے کو گروہوں میں بانٹ دیتا ہے اور log ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں. (2) جھگڑے, دشمنی اور قتل و غارت: تعصب کی بنا پر لڑائیاں ہوتی ہیں, خون خرابہ ہوتا ہے اور معاشرہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے. (مزید: ترقی رک جاتی ہے, کیونکہ تا'assubi معاشرہ اپنی طاقت آپس کی لڑائی میں ضائع کر دیتا ہے.)

2(iv). نبی کریم ﷺ اور Khulafa-e-Rashideen (RA) کے دور میں کس طرح merit کو فروغ دیا گیا?

(Derived answer) — کتاب میں اس کا سیدھا جواب نہیں; جواب کتاب کے اس اصول سے نکالا گیا ہے کہ ذمہ داری اس کو دی جاتی تھی جو اس کا اہل ہو. نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ کسی شخص کو وہی ذمہ داری یا uhda دیا جو اس کا اہل ہوتا — یعنی فیصلہ qabiliyat پر ہوتا تھا, نسب, تعلق یا سفارش پر نہیں. Khulafa-e-Rashideen نے بھی اسی اصول کو اپنایا: uhde اور ذمہ داریاں اہل لوگوں کو دی گئیں, اور حکمران خود بھی اپنے ہر فیصلے کے لیے جواب-دہ محسوس کرتے تھے — جیسے حضرت عمر (RA) کا یہ کہنا کے دریا-e-Furat کے کنارے کوئی بکری بھی mar گئی تو قیامت کے دن مجھ سے پوچھا جائے گا. یہی merit کا اصل مطلب ہے: حق دار کو حق, چاہے وہ کوئی بھی ہو.

2(v). رشوت ستانی کیسے دوسروں کے حقوق کو سلب کرتی ہے?

رشوت میں پیسہ دے کر وہ چیز خریدی جاتی ہے جو کسی اور کا حق ہوتی ہے. مثال: اگر نوکری, seat یا فیصلہ حق دار کو ملنا تھا, تو رشوت دینے والا نہ-اہل شخص اسے خرید لیتا ہے اور حق دار محروم رہ جاتا ہے. اس طرح رشوت سیدھی طرح دوسروں کے حقوق سلب کرتی ہے, ظلم اور نہ-انصافی پھیلاتی ہے, اور جب یہ عادت بن جائے تو بغیر رشوت کے کوئی جائز کام بھی نہیں ہوتا. اس لیے نبی کریم ﷺ نے رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی (Sunan Abi Dawud: 3580).

سوال 3: درج ذیل پر note لکھیں (Notes)

3(a). تعصب پر note لکھیں.

تعصب اپنے گروہ, قبیلے, صوبے یا جماعت کی بے-جا اور اندھی حمایت کا نام ہے — حق و باطل دیکھے بغیر اپنوں کا ساتھ دینا. Islam نے اسے سخت معنی کیا ہے اور مسلمانوں کو ایک امت بنایا ہے. قرآن کہتا ہے کہ قومیں اور قبیلے پہچان کے لیے بنائے گئے (Surah Al-Hujurat: 13) اور عزت کا معیار صرف تقوی ہے. نبی کریم ﷺ نے فرمایا کے جو تعصب کی طرف بلائے, اس کے لیے لڑے یا اس پر mare, وہ ہم میں سے نہیں (Sunan Abi Dawud: 5121). نقصان: اتحاد ختم, بھائی چارہ ختم, جھگڑے اور قتل و غارت, ترقی rukk جاتی ہے.

3(b). نشہ آور اشیا پر note لکھیں.

نشہ آور اشیا وہ تمام اشیا ہیں جو نشہ پیداکرنے کرتی ہیں — شراب, افیون, چرس اور ان جیسی چیزیں. Islam میں ہر نشہ-آور چیز حرم ہے: "ہر نشہ-آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ-آور چیز حرم ہے" (Sahih Muslim: 2003), اور قرآن نے شراب اور جوئے کو شیطانی کام کہہ کر ان سے بچنے کا حکم دیا (Surah Al-Ma'idah: 90). نقصان: عقل مفلوج ہو جاتی ہے, صحت برباد ہوتی ہے (خاص طور پر نوجوانو کی), گھر کا سکون اور خاندان کا اعتماد ختم ہوتا ہے, اور معاشرے میں جرم بڑھتا ہے. علاج: بچاؤ, اچھی صحبت, اور نوجوانو کی رہنمائی.

3(c). رشوت ستانی اور bad-عنوانی پر note لکھیں.

Bad-عنوانی ہر وہ عمل ہے جس میں کسی کا حق mara جائے; رشوت اس کی ایک عام صورت ہے — کسی صاحبِ اختیار کو ناجائز طریقے سے پیسہ, تحفہ یا فائدہ دے کر غلط فیصلہ یا ناجائز فائدہ حاصل کرنا. قرآن نے حکم دیا: نہ ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھاؤ, نہ hukkam تک رشوت pahunchao تاکہ لوگوں کا مال غلط طریقے سے کھا جاؤ (Surah Al-Baqarah: 188). نبی کریم ﷺ نے رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی (Sunan Abi Dawud: 3580). نتیجہ: حق دار محروم, نہ-اہل آگے, ظلم, مایوسی, بے-aitmadi اور معاشرے کی bunyadein ہل جاتی ہیں. علاج: merit, shafafiyat اور رشوت سے نفرت.

3(d). Ghuss گوئی پر note لکھیں.

Ghuss گوئی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا ہے — وہ بات جو sun کر اسے تکلیف پہنچے. یہ زبان کا گناہ اور دوسرے کی عزت پر حملہ ہے, کیونکہ جس کی برائی کی جا رہی ہے use صفائی کا موقع بھی نہیں ملتا. Islam نے بے-حیائی کی باتوں کے قریب جانے سے بھی معنی کیا ہے, khawah وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ (Surah Al-An'am: 151). مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہو (Sahih Bukhari: 10). علاج: بولنے سے پہلے تین سوال — کیا یہ سچ ہے, کیا ضروری ہے, کیا میں یہ اس کے منہ پر کہہ سکتا ہوں — ورنہ خاموشی بہتر ہے.

Part (ج) — Muashrati Taluqat Ke Akhlaqi Aadaab (pp. 83–84)

سوال 1: درست جواب کا انتخاب کریں (MCQs)

1(i). دوسروں کو حقیر سمجھنا علامت ہے:

Answer / جواب

(ج) تکبر کی — دوسروں کو حقیر سمجھنا اور خود کو بڑا سمجھنا ہی تکبر ہے; یہ وہی بیماری ہے جو خود پسندی سے پیداکرنے ہوتی ہے.

1(ii). حدیث مبارک "تعلق توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا" میں مفہوم بیان کیا گیا ہے:

Answer / جواب

(د) معاشرت کا — رشتہ توڑنا یا جوڑنا معاشرتی تعلقات کا مسئلہ ہے; اسی لیے اس حدیث (Sahih Bukhari: 5984) کا مفہوم معاشرت سے ہے, muashiyat سے نہیں.

1(iii). معاشرے کی بنیادی اکائی ہے:

Answer / جواب

(ج) خاندان — خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی اور اچھے تعلقات کی پہلی درسگاہ ہے; یہیں سے محبت, حقوق اور آداب سیکھے جاتے ہیں.

1(iv). Nabi Kareem ﷺ ne jis shakhs ki qabar par dua farmayi woh tha:

Answer / جواب

(الف) مسجد کی صفائی کرنے والا — مسجد کی صفائی کرنے والے شخص کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ کو اطلاع نہ ملی; جب معلوم ہوا تو آپ ﷺ اس کی قبر پر گئے اور وہاں دعا/نماز ادا فرمائی.

1(v). Habsha se aane wale safeer ki khidmat ki:

Answer / جواب

(الف) نبی کریم ﷺ نے — حبشہ سے آنے والے وفد کی خدمت آپ ﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے کی, کیونکہ انہوں نے آپ ﷺ کے صحابہ کی خدمت کی تھی.

سوال 2: مختصر جواب دیں (Short answers)

2(i). معاشرتی تعلقات کا مفہوم بیان کریں.

معاشرتی تعلقات کا مطلب ہے معاشرے کے لوگوں کا آپس میں ملنا-جلنا, لینا-دینا اور برتاؤ. جب log ایک ساتھ رہتے ہیں تو ان کے درمیان جو روابط, حقوق اور آداب پیداکرنے ہوتے ہیں, انھیں معاشرتی تعلقات کہتے ہیں. انسان فطری طور پر معاشرتی ہے — اکیلا مکمل زندگی نہیں گزر سکتا — اس لیے خاندان, ہمسائے, دوست, ساتھی اور پورا معاشرہ, سب سے اچھے تعلقات رکھنا ضروری ہے.

2(ii). معاشرتی تعلقات کے بڑے میں سیرتِ طیبہ سے ایک مثال بیان کریں.

ایک مثال: نبی کریم ﷺ نے اپنے یہودی ہمسائے کی بیماری میں عیادت کی — یعنی غیر muslim ہمسائے کے حق کو بھی پورا کیا. دوسری مثال: مسجد کی صفائی کرنے والے شخص کے انتقال پر آپ ﷺ اس کی قبر پر گئے اور دعا فرمائی. تیسری: حبشہ کے وفد کی خدمت خود اپنے ہاتھوں سے کی. ان مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ سیرت میں ہر طبقے, ہر مذہب اور ہر درجے کے شخص سے اچھا سلوک ہے.

2(iii). Nabi Kareem ﷺ ghair muslimon se kis tarah ke muashrati taluqat rakhte the?

آپ ﷺ غیر مسلمانوں سے بھی حسنِ سلوک, امن اور انصاف کے تعلقات رکھتے تھے. آپ ﷺ نے ان کے حقوق کی حفاظت کی, بیمار یہودی ہمسائے کی عیادت کی, وفد اور مہمانوں کی خدمت کی, اور غیر muslim شہریوں پر ظلم کو سختی سے معنی کیا — یہاں تک کے فرمایا کے جو غیر muslim پر ظلم کرے, قیامت کے دن اس کے خلاف آپ ﷺ خود وکیل ہوں گے. یعنی مذہب کا فرق اچھے برتاؤ میں رکاوٹ نہیں بنتا.

2(iv). Islam نے معاشرتی تعلقات کی مضبوطی اور وسعت کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں?

Islam نے کئی اقدامات کیے: (1) سلام کو عام کرنے کا حکم دیا تاکہ لوگوں میں محبت بڑھے. (2) مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دیا اور ان کے باہمی حقوق مقرر کیے. (3) رشتہ جوڑنے پر اجر رکھا — جو رشتہ جوڑتا ہے اللہ اس سے جوڑتا ہے — اور رشتہ توڑنے پر سخت وعید سنائی. (4) ہمسائے کے حقوق پر زور دیا, یہاں تک کے فرمایا کے جس کے شر سے ہمسایہ محفوظ نہ ہو وہ مومن نہیں (Sahih Bukhari: 6016). (5) بیمار کی عیادت, جنازے میں شرکت اور مہمان-نوازی کو اجر کا کام بنایا. ان سب سے تعلقات مضبوط اور وسیع ہوتے ہیں.

2(v). Social media معاشرتی تعلقات کو کیسے متاثر کرتا ہے?

Social media تعلقات کو دو طرح متاثر کرتا ہے. مثبت عصر: دور کے log قریب ہو جاتے ہیں, علم اور خبر فوراً پہنچتی ہے, اور اچھے کاموں کی دعوت پوری دنیا تک جا سکتی ہے. منفی عصر: اگر بے-احتیاطی ہو تو افواہیں پھیلتی ہیں, لوگوں کی نجی زندگی اور تصویریں بغیر اجازت share ہوتی ہیں, مذاق اور توہین عام ہو جاتی ہے, اور وقت ضائع ہوتا ہے — جس سے اصل تعلقات کمزور ہو جاتے ہیں. اس لیے کتاب کہتی ہے کہ social media کو اسلامی آداب کے ساتھ, اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے.

سوال 3: تفصیلی جواب دیں (Detailed answer)

3. معاشرتی تعلقات کی اہمیت اور اخلاقی آداب پر jaami note لکھیں.

اہمیت: انسان معاشرتی مخلوق ہے; اکیلا مکمل زندگی نہیں گزر سکتا. معاشرتی تعلقات سے انسانی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں, mushkilat حل ہوتی ہیں, علم و شعور بڑھتا ہے, باہمی تعاون کو فروغ ملتا ہے اور ایک مضبوط معاشرہ وجود میں آتا ہے. Islam نے ان تعلقات کی بنیاد محبت, بھائی چارہ, ہمدردی, ایثار اور حقوق کی ادائی پر رکھی ہے, اور خاندان کو ان کی بنیادی اکائی بنایا ہے. آداب: (1) سلام عام کرو اور musafaha میں پہلے ہاتھ نہ چھوڑو, چہرۂ نہ پھیرو — جیسے نبی کریم ﷺ کا طریقہ تھا. (2) ہمسائے کو اپنے شر سے محفوظ رکھو; اس کی بیماری میں عیادت کرو, خوشی-غمی میں شریک ہو. (3) رشتہ جوڑو, نہ توڑو — رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا. (4) جھوٹ, دھوکا, حسد, بہتان اور تکبر سے بچو — یہ تعلقات کو کاٹنے والے a'mal ہیں. (5) Social media پر کسی کی نجی زندگی, تصویر یا afwah نہ پھیلاؤ; use صرف اچھے مقاصد کے لیے استعمال کرو. جو معاشرہ ان آداب پر چلتا ہے, وہ امن, محبت اور ترقی کا معاشرہ بنتا ہے.

ENGLISH

Sargarmiyan baraye talaba wa asatiza karam (class activities, not exam questions): (الف) Students list examples of khair khwahi and ihtiram from daily life and from Seerat; one activity asks students to write, in a table, which good deeds they see around them and what reward they hope for; a second table asks them to sort deeds under: khoobiyan, ihtiram-e-insaniyat, eesaar, huqooq al-ibad ki pasdari, khidmat-e-khalq, humdardi, rahm dili, husn-e-akhlaq, saqawat. (ب) Students note the harms and losses of each moral evil (taassub, khud pasandi, ghuss goi, nashiyat, rishwat, bad-unwani) and discuss how practical life can be saved from them. (ج) Students list the aadaab of muashrati taluqat they have learnt, note which ones they practise in daily life and at home, and list the acts that damage social relations (e.g. jhoot, dhoka, takabbur) with examples from social media use.

📌 باب کا خلاصہ اور رہنمائی — اس باب میں کیا ہے؟
اردو

یہ باب اخلاق و آداب کا مکمل رہنما ہے۔ پہلا حصہ اجتماعی خیر خواہی اور احترامِ انسانیت کا ہے — انبیا کی خیر خواہی، چیونٹی کی مثال، غیر مسلموں کے حقوق، ابو بکر و عمر اور حسنین کریمین کی مثالیں، تحقیر کی صورتیں اور خیر خواہی کے چھ فوائد۔ دوسرا حصہ اخلاقی رذائل سے اجتناب کا ہے — تعصب، خود پسندی، غص گوئی، منشیات کا استعمال، بدعنوانی اور رشوت ستانی۔ تیسرا حصہ معاشرتی تعلقات کے اخلاقی آداب کا ہے — تعلقات کی بنیاد، خاندان، سیرت کی مثالیں، ہمسائے کے حقوق، نقصان دہ اعمال اور سوشل میڈیا کے آداب۔ آخر میں تینوں حصوں کی کتابی مشق کے تمام سوالات کے جوابات ہیں۔

نظرثانی کی رہنمائی: پہلے تین حصے الگ الگ یاد کرو — (الف) خیر خواہی + احترام، (ب) چھ رذائل، (ج) تعلقات کے آداب۔ پھر ہر حصے کی ایک ایک آیت اور ایک ایک حدیث زبانی یاد کرو: خیر خواہی کے لیے سورۃ الأعراف: 68 اور ’’دین خیر خواہی ہے‘‘؛ احترام کے لیے سورۃ بنی اسرائیل: 70؛ تعصب کے لیے سورۃ الحجرات: 13؛ رشوت کے لیے سورۃ البقرۃ: 188؛ ہمسائے کے لیے صحیح بخاری: 6016۔ آخر میں 15 MCQs کے درست جواب ایک نظر پھر دیکھ لو — ہر حصے کے 5، 5، 5۔

ENGLISH

This chapter is a complete guide to Akhlaq o Aadaab. The first part covers collective well-wishing and respect for humanity — the prophets' well-wishing, the ant's example, non-Muslims' rights, the examples of Abu Bakr, Umar and Hasan and Husain, the forms of degradation, and six fruits of goodness. The second part covers avoidance of moral evils — taassub, khud pasandi, ghuss goi, drug abuse, corruption and bribery. The third part covers the manners of social relations — their foundation, the family, examples from Seerat, neighbours' rights, harmful acts and social-media manners. It ends with answers to every official exercise question from all three parts.

Revision guidance: first learn the three parts separately — (a) well-wishing + respect, (b) the six evils, (c) manners of relations. Then memorise one verse and one hadith from each part: for well-wishing, Surah Al-A'raf: 68 and "Religion is well-wishing"; for respect, Surah Bani Israil: 70; for taassub, Surah Al-Hujurat: 13; for bribery, Surah Al-Baqarah: 188; for neighbours, Sahih Bukhari: 6016. Finally, re-read the correct answers to all 15 MCQs — 5 + 5 + 5 from the three parts.

🎯 مزید MCQs اور Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Islamiat, Chapter 4 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu

← Chapter 3Chapter 5 →